چپ چپ رہنا آہیں بھرنا کچھ نہ کہنا لوگوں سے
تنہا تنہا اشک بہانا ہم کو اچھا لگتا تھا
معلیٰ
تنہا تنہا اشک بہانا ہم کو اچھا لگتا تھا
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
ہَماری لاش پہ ڈُھونڈو نا اُنگلیوں کے نِشاں ہمیں خَبر ہے عزیزو یہ کام کِس کا ہے
خدا کے دست قدرت میں ہے انسانوں کی پیدائش وہی مخلوق کا خالق، وہی روزی رساں سب کا ظفرؔ عز و شرف بھی دے وہی آرام و آسائش
یہ شغل سخن وقت گزاری کے لیے ہے
تو حکیم ہے تو کریم ہے، تو عظیم ہے تو عظیم ہے لکھے نعت حمد کے درمیاں، لکھے حمد نعت کے درمیاں یہ ظفرؔ کا ذوقِ سلیم ہے، تو عظیم ہے تو عظیم ہے
وہ قلبِ مطمئن ہے ہر گھڑی مسرُور ہوتا ہے خدا کی یاد ہوتی ہے، خدا سے بات ہوتی ہے خدا خود سینۂ عُشاق میں مُستور ہوتا ہے
بفیضِ مصطفیٰ بیٹھے ہوئے ہیں اُٹھا دست دُعا بیٹھے ہوئے ہیں ظفرؔ کم تر گدا بیٹھے ہوئے ہی
ہے تو ہی رہنما ہر بے بصر کا ترے لطف و کرم سے ہے سُبک سر ظفرؔ تھا دل گرفتہ دِل شکستہ
خدا قیوم دائم ہے سدا ہے خدا دیتا مریضوں کو شفا ہے خدا کا نام ہر سُو گونجتا ہے