عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے

لیکن اب تو سوچتا بھی ہوں وضو کر کے اُسے اُس کا مقصد قتل ہے میرا تو بسم اللہ کرے سرخرو ہو جاؤں گا میں سرخرو کر کے اُسے سرخ انگاروں بھری وہ آگ جب بُجھنے کو تھی رکھ لیا میں نے رگ و پَے میں لہو کر کے اُسے !اتنی آسانی سے مت کھونا […]

کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

جب جب بھی دُکھ اُٹھائے ، مُسرت عطا ہوئی پھر قحط سے مرے ہوئے دفنا دیئے گئے اور چیونٹیوں کے رزق میں برکت عطا ہوئی اُس حکم میں تھی ایسی رعونت کہ پہلی بار ہم بُزدلوں کو کُفر کی ہمت عطا ہوئی میں کیوں نہ فخر اُدھڑی ہوئی کھال پر کروں اک شعر تھا کہ […]

نہیں مطلب نہیں اس کی نہیں کا

یہ دل سمجھا نہیں پاگل کہیں کا ستارے ماند ہیں سب تیرے ہوتے کہ تُو ہے چاند ، وہ بھی چودھویں کا میں روتا ہوں تو روتے ہیں دروبام مکاں بھی دُکھ سمجھتا ہے مکیں کا یہ کیسے موڑ پر چھوڑا ہے تو نے مجھے چھوڑا نہیں تو نے کہیں کا کیے سجدے کچھ اتنے […]

شرمیلی محبوبہ سے

ہمارے پاس اگر وقت ہوتا لامحدود فنا پذیر نہ ہوتا اگر ہمارا وجود تو میری جان! ترا روٹھنا روا ہوتا تری جھجک ، ترا شرمیلا پن بجا ہوتا !بڑے سکوں سے ہم بیٹھے سوچتے، مری جاں ہمیشگی کا یہ دورانیہ گزاریں کہاں ؟ تُو بحرِ سبز کے ساحل پہ سیپیاں چُنتی شبِ خموش میں لہروں […]

چمکتے ستارے! اگر میں تری طرح لافانی ہوتا

چمکتے ستارے! اگر میں تری طرح لافانی ہوتا تو اس طرح تنہائی میں بامِ شب پر معلق نہ ہوتا کسی رات بھر جاگنے والے صحرا نشیں سا نہ ہوتا نہ اپنی ابدتاب پلکیں بکھیرے رواں پانیوں کو وضو کرتے تکتا زمینوں کے چَو گرد اور نسلِ انساں کے سب ساحلوں تک نہ میں تانکتا جھانکتا […]

کہیں جو خوبیٔ قسمت سے مجھ کو مِل جاتیں

خدا کے ہاتھ سے جنت کی خلعت و پوشاک سنہری نور سے بُنوائے شوخ پیراہن نہ جن کی جیب دریدہ ، نہ جن کا دامن چاک انہیں میں تیرے حسیں پاؤں میں بچھا دیتا خدا گواہ ، تری رہگزر سجا دیتا مگر میں ایک تہی دست و رائیگاں شاعر سوائے خواب مرے پاس اور کچھ […]

سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا

دل کے باغیچے سے گُلہائے جنوں چُننے سے قبل اور مٹی اوڑھ کر اک قبر میں سو جاوٗں گا حیرتوں والے صحیفوں کے سُننے سے قبل جب ستاروں سے دمکتی شب کے خدّو خال پر دیکھتا ہوں روشنی اِک غیر فانی عشق کی سوچ کر افسردہ ہوتا ہوں میں اپنے حال پر مجھ کو مُہلت […]

وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے

وہ غم جو ہجر میں ملتے ہیں ، غم نہیں ہوتے !کسی کے نام کو لکھ لکھ کے کاٹنے والو قلم کی نوک سے رشتے قلم نہیں ہوتے تمہیں ملیں بھی تو کیسے کہ آج کل ، یارو ہم اپنے آپ کو اکثر بہم نہیں ہوتے ہمیں پسند نہیں ہے ہجوم میں ہونا ہما شُما […]

تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے

کوئی بتائے اُن آنکھوں کا تجمہ کر کے سناؤں گا نہیں لیکن کہا تو ہے اک شعر تمہاری ساری اداؤں کا ترجمہ کر کے میں ساری باتیں پسِ گفتگو بھی کرتا ہوں مجھے سنو مری سوچوں کا ترجمہ کر کے غزل نگار ہوا نے تمام شاخوں پر لکھے ہیں گُل ترے گالوں کا ترجمہ کر […]

تُو حکم کر ، نہ جاؤں تو جو چور کی سزا

پھر میں پلٹ کے آؤں تو جو چور کی سزا بے خوف آ کے مِل کہ ترے اِذن کے بغیر میں آنکھ بھی اُٹھاؤں تو جو چور کی سزا چوری کروں گا بس ترا دل ، نیند اور چَین میں اور کچھ چراؤں تو جو چور کی سزا مجھ بے نوا گدا کو نہ در […]