کرو آدم کو سجدہ، جب فرشتوں کو یہ فرمایا خدا نے
جبیں میں ضو فشاں نورِ محمد، اُن کو دکھلایا خدا نے فرشتے گر گئے سجدے میں جب نورِ مبیں دیکھا زمیں پر ہے مرا نائب یہ سمجھایا خدا نے
معلیٰ
جبیں میں ضو فشاں نورِ محمد، اُن کو دکھلایا خدا نے فرشتے گر گئے سجدے میں جب نورِ مبیں دیکھا زمیں پر ہے مرا نائب یہ سمجھایا خدا نے
ہے یہ منطق خدائے لم یزل کی علمداری ہر اِک جا عدل کی ہو جزا ملتی رہے حُسنِ عمل کی
خدا کا سب زمانوں پر کرم ہے خدا کا نُور برسے قلب و جاں پر خدا کے فضل سے ہی دم میں دم ہے
بنا کر آپ کو سردارِ اُمت، خدا نے عظمتیں بخشی ہیں کیا کیا شبِ معراج پاس اپنے بُلا کر، فلک پر خلوتیں بخشی ہیں کیا کیا مری سرکار کو اپنا بنا کر، خدا نے رفعتیں بخشی ہیں کیا کیا
محبت، عشق سے قلبِ تپاں سے وفورِ شوق سے، حُسنِ بیاں سے کرو باتیں خدائے مہرباں سے
میں نخلِ خشک ہوں گرچہ، مرا دل تو ہرا ہے میں چلتا پھرتا لاشہ ہوں، ظفر طرفہ تماشا ہوں حبیبِ کبریا کے در پہ، دل میرا دھرا ہے
خدا کی حمد میں مسرُور ہوں میں مرے پیشِ نظر ہے خانہ کعبہ خدا کے فیض سے معمور ہوں میں
خدا ہی سب کا رازق ہے خدا ہے خدا کے زیر فرماں سب زماں ہیں ظفرؔ وہ سب کا مالک ہے خدا ہے
اُسی کے حکم کا سکہ زمانوں میں رواں ہے خدا کی حمد سے پہلے سمجھ لے، سوچ لے ناداں خدا کے ذکر کے قابل ظفرؔ تیری زباں ہے ؟
اندھیری چاند راتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم بوقتِ حمد ہر لحظہ، ظفرؔ سجدے میں سررکھنا حبیب اللہ کی باتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم