بہت ارفع مقامِ زندگانی ہے
بڑا واضح نظامِ زندگانی ہے فنا فی اللہ ہی واحد راستہ ہے اگر چاہے دوام زِندگانی ہے
معلیٰ
بڑا واضح نظامِ زندگانی ہے فنا فی اللہ ہی واحد راستہ ہے اگر چاہے دوام زِندگانی ہے
تُو رؤف ہے تو رحیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے تُو حلیم ہے تو حکیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے تُو ظفرؔ کا ربِ کریم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
میری خطائیں بے شمار ترے کرم کی خواستگار میری چشمِ اشک بار
جمالِ مصطفیٰ اللہ اکبر خدا کے ہم نوا و ہم نشیں ہیں حبیبِ کبریا اللہ اکبر
سبھی طبقاتِ کائنات کا ہے وہی رہتے ہیں مصروفِ عبادت کرم جن پر خدا کی ذات کا ہے
مرا ایمان محکم ہی، مرے ہر دُکھ کا درماں ہے مرا ایمان میری مغفرت، بخشش کا ساماں ہے خدا کا شکر جو کرتا نہیں، کم ظرف انساں ہے
خدا کا نُور اُس گھر میں عیاں ہو وہ گھر دار الشفا، دار الاماں ہو خدا کی عظمتوں کا ترجماں ہو
خدا کی یاد میں آنسو بہاتا، مسکراتا ہوں مَیں جب نُورِ خدا کی ایک ہلکی سی کرن دیکھوں خوشی کے شادیانے بے خودی میں مَیں بجاتا ہوں
ہر اِک رازِ نہاں عشاق پر واضح عیاں ہو گا یہ انسانوں کی خدمت میں ہمیشہ منہمک ہوں گے خدائی مہرباں ہو گی، خدا بھی مہرباں ہو گا
زمیں بھی ناز کرتی، آسماں بھی ناز کرتا ہے ظفرؔ ساری خدائی بھی خدا پر ناز کرتی ہے محمد پر خدائے مہرباں بھی ناز کرتا ہے