دلیل و حُجتِ حق دیگر است و حق دیگر

طریقِ جہل ہزار و رہِ شناخت یکے حق کے بارے میں دلیلیں دینا اور حجتیں اور تاویلیں بیان کرنا کوئی اور چیز ہے اور حق کچھ اور ہے جہالت اور نادانی کے تو ہزاروں طریقے اور راستے (دلائل) ہیں لیکن شناخت اور عرفان کی بس ایک ہی راہ ہے

روز و شبِ من بہ گفتگوئے تو گذشت

سال و مہِ من بہ جستجوئے تو گذشت عمرم بطوافِ گردِ کوئے تو گذشت القصہ، در آرزوئے روئے تو گذشت میرے شب و روز تیری ہی باتیں کرتے گذر گئے میرے ماہ و سال تیری ہی جستجو میں گزر گئے میری عمر تیرے کوچے کے گرد طواف کرتے گزر گئی قصہ مختصر، میری ساری زندگی […]

باغ سے جھولے اتر گئے

سندر چہرے اتر گئے وصل کے ایک ہی جھونکے میں کان سے بالے اتر گئے بھینٹ چڑھے تم عجلت کی پیڑ سے کچے اتر گئے لٹک گئے دیوار سے ہم سیڑھی والے اتر گئے گھر میں کس کا پاؤں پڑا چھت سے جالے اتر گئے ڈول وہیں پر پڑا رہا چاہ میں پیاسے اتر گئے […]

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے کسی بدن کی تمازت نڈھال کرتی ہے کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے نشست کے تو طلبگار ہی نہیں ہم لوگ ہمارے پاؤں سے کیوں پائدان کھینچتا ہے بدل کے […]

ترمیمِ خال و خد کا وسیلہ نہیں رہا

کوزہ اتر کے چاک سے گیلا نہیں رہا سائے کو رونے والے مسافر کو کیا خبر پھل بھی اب اس شجر کا رسیلا نہیں رہا اب تو ہمارے نام سے پہچانیے ہمیں اب تو ہمارا کو ئی قبیلہ نہیں رہا آباد کر دیا ہے بگولوں کو دشت نے اب رہ گزر میں کوئی بھی ٹیلہ […]

تری فضیلت کو اس لئے بھی مرے حوالے سے جانا جائے

دیا ضروری ہے پہلے پہلے جلانے والے سے جانا جائے بہت غنیمت ہیں ہم سےملنے کبھی کبھی کے یہ آنے والے وگر نہ اپنا توشہر بھر میں مکان تالے سے جانا جائے شجر سے میں نے جو شاخ کاٹی شجر بنانے کی ٹھان لی ہے مری خطا کو خدارا اب تو مرے ازالے سے جانا […]

تنگئ رزق سے ہلکان رکھا جائے گا کیا

دو گھروں کا مجھے مہمان رکھا جائے گا کیا تُجھے کھو کر تو تیری فِکر بہت جائز ہے تُجھے پا کر بھی تیرا دھیان رکھا جائے گا کیا کس بھروسے پہ اذیت کا سَفر جاری ہے دُوسرا مرحلہ آسان رکھا جائے گا کیا خوف کے زیرِاثر تازہ ہوا آئے گی اب دریچے پہ بھی دربان […]

دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو

ہم نے سمجھا نہیں دریا کی پریشانی کو یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو بے گھری کا مجھے احساس دلانے والے تو نے برتا ہے مری بے سر و سامانی کو شرمساری ہے کہ رکنے میں نہیں آتی ہے خشک کب تک کوئی کرتا رہے پیشانی […]

ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

سفر سے آئے ہوؤں کا خیال کرتے ہیں میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں وہ دستیاب ہمیں اس لئے نہیں ہوتا ہم استفادہ نہیں دیکھ بھال کرتے ہیں زمانہ ہو گیا حالانکہ دشت چھوڑے ہوئے ہمارے تذکرے اب بھی غزال کرتے ہیں وہ عشق جس […]