دکھاؤ اپنا نہ حسن و جمال چوکھٹ پر

گرا رہے ہیں سبھی لوگ رال چوکھٹ پر ارادہ ہے کہ ترے نقش پا سمیٹوں میں سو لے کے آیا ہوں گھر سے کدال چوکھٹ پر ہے رزق معدے کی زینت نہ کر اسے پامال نہ دال ڈال ارے او رزال چوکھٹ پر پلانی چائے نہ پڑ جائے ان کو بیٹھک میں تعلقات کریں وہ […]

دیکھ کر بھاگا ہوں میں کفگیر اُس کے ہاتھ میں

آگئی ہے اب مری تقدیر اُس کے ہاتھ میں فیس بُک پہ لوڈ کی تھیں جھوٹی تصویریں تمام آگئی یہ کون سی تصویر اُس کے ہاتھ میں اُس کے سب قانون اُس کے فائدے کے واسطے وہ ہے حاکم اور ہے تعذیر اُس کے ہاتھ میں اک منٹ میں وہ ہجومِ بیکراں لے آئے گا […]

ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

سفر سے آئے ہوؤں کا خیال کرتے ہیں میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں وہ دستیاب ہمیں اس لئے نہیں ہوتا ہم استفادہ نہیں دیکھ بھال کرتے ہیں زمانہ ہو گیا حالانکہ دشت چھوڑے ہوئے ہمارے تذکرے اب بھی غزال کرتے ہیں وہ عشق جس […]

روز و شبِ من بہ گفتگوئے تو گذشت

سال و مہِ من بہ جستجوئے تو گذشت عمرم بطوافِ گردِ کوئے تو گذشت القصہ، در آرزوئے روئے تو گذشت میرے شب و روز تیری ہی باتیں کرتے گذر گئے میرے ماہ و سال تیری ہی جستجو میں گزر گئے میری عمر تیرے کوچے کے گرد طواف کرتے گزر گئی قصہ مختصر، میری ساری زندگی […]

قافیہ ڑ کا ایسا گڑ گیا ہے

پھر قلم اس پہ آکے اڑ گیا ہے عشق کا کیڑا اس کو ’لڑ ‘​ گیا ہے قیس لیلیٰ کے پیچھے پڑ گیا ہے بڑھ گئی جتنی پینٹ کی چستی دامن اتنا ہی اب سکڑ گیا ہے ماڈرن ایج میں مودب ہے لڑکاکچھ آپ کا بگڑ گیا ہے موچ گردن میں باس کے آئی پٹھا […]

ملاحوں کا تو بس دانہ پانی ہے

کشتی بھی اس کی ہے جس کا پانی ہے پیاس کی پیدائش تو کل کا قصہ ہے اس دھرتی کا پہلا بیٹا پانی ہے رونے والے نے تاخیر سے کام لیا لگتا ہے تالاب میں پچھلا پانی ہے اس دریا کو ڈوب کے سننا پڑتا ہے آوازوں سے ملتا جلتا بانی ہے بڑی نہیں ہے […]

میں رواں دائرے میں رہ گیا ہوں

اس لئے راستے میں رہ گیا ہوں ہر خسارے کو سوچ رکھا تھا میں بہت فائدے میں رہ گیا ہوں سر جھٹکنے سے کچھ نہیں ہوگا میں ترے حافظے میں رہ گیا ہوں گم ہوا تھا کسی پڑاؤ میں دوسرے قافلے میں رہ گیا ہوں میں جری تو عدو سے کم نہیں تھ بس ذرا […]

نظر نظر میں نہ اُس کو پچھاڑ بندہ بن

تو بھینگی آنکھ سے کاکی نہ تاڑ بندہ بن دماغ شل کرے یہ’’ میڈیائے ان سوشل‘​‘​ نہ توڑ دے کوئی تیری ’’ جباڑ‘​‘​ بندہ بن کہا یہ لیلیٰ سے مجنوں نے پارلر میں چل کہ سر ہے جھاڑ ترا منہ پہاڑ بندہ بن خدا کے واسطے تخلیق کو بریک لگا ہے پہلے ہی پڑا گھر […]

وہ جو اک شخص مجھے طعنہء جاں دیتا ہے

مرنے لگتا ہوں تو مرنے بھی کہاں دیتا ہے تری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے تم جسے آگ کا تریاق سمجھ لیتے ہو دینے لگ جائے تو پانی بھی دھواں دیتا ہے نا روا لاکھ سہی اپنی امامت لیکن اس پہ واجب ہے […]