عَسَس با دُزد شد دمساز و ما با ہر دو بیگانہ
بہ شب از دزد باشد وحشت و روز از عسس ما را پاسبانوں (چوکیداروں) نے چوروں کے ساتھ یارانہ گانٹھ لیا ہے اور ہم ان دونوں سے بیگانہ ہمارے لیے رات کے وقت چوروں سے ڈر خوف ہے اور دن کے وقت پاسبانوں سے
معلیٰ
بہ شب از دزد باشد وحشت و روز از عسس ما را پاسبانوں (چوکیداروں) نے چوروں کے ساتھ یارانہ گانٹھ لیا ہے اور ہم ان دونوں سے بیگانہ ہمارے لیے رات کے وقت چوروں سے ڈر خوف ہے اور دن کے وقت پاسبانوں سے
جز شاد و اُمیدوار و خرم نروم از درگہِ ہمچو تو کریمے ہرگز نومید کسے نرفت و من ہم نروم میں غمناک ہوں لیکن تیرے کوچے سے غموں کو ساتھ لے کر نہیں جاؤنگا بلکہ امید لیے، شاد اور خوش خوش جاؤںگا تیرے جیسے کریم کے در سے (آج تک) کوئی بھی ہرگز ہرگز ناامید […]
خونِ فاسد را علاجِ خوشتر از اخراج نیست اگر تیرا دل آزردہ و افسردہ و پریشان ہے تو دل سے باطل خیالات کو نکال دے کہ فاسد خون کا اخراج سے بہتر کوئی علاج نہیں ہے
و آبِ شیریں چو تو در خندہ و گفتار آئی پھولوں کی قدر و قیمت ختم ہو جاتی ہے جب تو گلستان میں آتا ہے اور ٹھنڈے میٹھے پانی کی بھی جب تو مسکراتا اور بات کرتا ہے
دلِ فگار یکے، جانِ بے قرار یکے مجھے عیش سے کیا لینا دینا کہ آرام و سکون کے دو دشمن ہر وقت میرے ساتھ ہیں ایک دلِ فگار ہے، ایک جانِ بے قرار ہے
تو عشق بیں کہ مرا میرِ بحر و بر دارد بیابان میرا گھر ہے اور اور دل خون ہو کر دریا بنا ہوا ہے تُو عشق (کی کرشمہ سازی و نیرنگی) دیکھ کہ اُس نے مجھے بحر و بر (تری اور خشکی، دریا اور بیابان) کا امیر بنا رکھا ہے
بیا بیا کہ ز شمعِ رُخَت برافروزم میری راحت و خوشی و سرور نشاط کا چراغ تیرے ہجر کی تند و تیز ہوا سے بجھ گیا، آجا آجا کہ میں تیرے چہرے کی شمع سے اِس چراغ کو (پھر سے) روشن کر لوں
ابرو کشادہ باش چو دستت کشادہ نیست اگر تُو کوئی گرہ کھول نہیں سکتا (کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتا) تو خود ہی گرہ (مسئلہ) مت بن جا، اگر تیرا ہاتھ کشادہ نہیں ہے تو کم از کم کشادہ ابرو (خندہ پیشانی) والا ہی بن جا
چہ زندگی کہ غمم ہست و غمگسارم نیست کیا عالم ہے کہ دل تو ہے لیکن کوئی دلنواز نہیں ہے۔ کیسی زندگی ہے کہ مجھے غم تو ہیں لیکن میرا کوئی غمگسار نہیں ہے
نہ در معمورہ می خندد، نہ در ویرانہ می گرید وہ کہ جو عقل اور جنون کی وادی (تضادات کی دنیا) سے اپنے آپ کو باہر کھینچ لاتا ہے وہ پھر نہ آبادیوں میں ہنستا ہے اور نہ ہی ویرانوں میں روتا ہے، اس کے لیے سب کچھ ایک برابر ہو جاتا ہے