گر بہ قطارِ بندگاں، راہ دہی ستادہ ام

ور بکمانِ ابرواں، تیر زنی نشانہ ام اگر تُو (لطف و عنایت سے) اپنے غلاموں کی قطار میں مجھے جگہ دے تو میں (ہاتھ باندھے) کھڑا ہوں، اور اگر (جور و جفا سے) تُو اپنے ابروؤں کی کمان سے تیر چلائے تو میں نشانہ بنا کھڑا ہوں

ہر کرا توفیقِ عیبِ خویش بینی دادہ اند

بعد مُردن بر مزارش کور بینا می شود ہر وہ شخص کہ جسے (بجائے دوسروں کے عیب دیکھنے کے) اپنے عیب اور اپنی خامیاں دیکھنے کی توفیق دے دی گئی، مرنے کے بعد اُس کے مزار پر اندھے بھی دیکھنے والے بن جاتے ہیں۔ یعنی دوسروں کو بھی اپنے اپنے عیب دیکھنے کی توفیق مل […]

اہلِ دنیا عاشقِ جاہند از بے دانشی

آتشِ سوزاں بچشمِ کودکِ ناداں زر است اہلِ دنیا، اپنی کم عقلی اور بے دانشی کی وجہ سے شان و شوکت و عزت و مرتبے و جاہ و جلال کے عاشق ہیں، جیسے کہ نادان بچے کو جلانے والی چمکتی ہوئی آگ بھی سونا ہی نظر آتی ہے