دامانِ کرم راہ کے اشجار بنے ہیں
ہے دھوپ اگر تیز تو سائے بھی گھنے ہیں
معلیٰ
ہے دھوپ اگر تیز تو سائے بھی گھنے ہیں
مُہر لگ جائے گی کاغذ مُستند ہو جائے گا
دن میں وہ ساتھ رہا خواب کی دہشت نہ گئی
محبت کیا ہے ؟ اُس نے بھی یہ مجھ سے آج پوچھا ہے بتاسکتاہوں میں اِتنا ،مجھے معلوم جِتناہے محبت لفظ ایسا ہے ادا ہو جب زباں سے تو یہ دل کاترجماں بھی ہے فقط عنوان ہی کب ہے؟ مکمل داستاں بھی ہے مِرے محبوب کے در کایہ سنگ ِ آستاں بھی ہے محبت شوق […]
فصیلِ شب پہ چمکتا رہا ، لکھا میرا
پھر وہ موسم تو گیا اور قیامت نہ گئی
آپ انصاف سے کہیے ، یہ ہنر ہے کہ نہیں ہے
مانگے ہوئے اُجالے نقیبِ سحر نہ تھے
ضمیر آدمیت سے میں غداری نہیں کرتا قلم شاخ صداقت ہے زباں برگ امانت ہے جو دل میں ہے وہ کہتا ہوں اداکاری نہیں کرتا میں آخر آدمی ہوں کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا میں دامان نظر میں کس لیے سارا چمن بھر لوں […]
روشنی ! اے روشنی ! میری طرف