دنیا میں کوئی عشق سے بد تر نہیں ہے چیز
دل اپنا مفت دیجیے پھر جی سے جائیے
معلیٰ
دل اپنا مفت دیجیے پھر جی سے جائیے
بھلا میں اور کیا مانگوں خدا سے
دشت میں قیس ملا کوہ میں فرہاد مجھے
دوست جس کے بنو وہ دشمن ہے
مژدۂ وصل آج تار میں ہے
پہروں خیال یار سے باتیں کیا کیے
مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے
ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے
کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا
عدم سے آئے تھے کیا کیا ہم آرزو کرتے