نہ پوچھو ہم سفرو مجھ سے ماجرا وطن
وطن ہے مجھ پے فدا اور میں فدائے وطن
معلیٰ
وطن ہے مجھ پے فدا اور میں فدائے وطن
الٰہی میں کہیں ہوں وہ کہیں ہے
لطف صحبت کا گفتگو سے ہے
لوگ کہتے ہیں مارواڑ میں ہے
وعدۂ وصل پر مدار ہے آج
ہے اس میں کیا گناہ تیرے جاں نثارؔ کا
بس یہی موت کا بہانہ ہے
رسوا رہے خراب رہے در بدر رہے
تار ہاتھ آئے جب نہ دامن سے
وہ ماہ چہرے پہ جب ڈال کر نقاب آیا