کسی لڑائی کا میں کیسے بن گیا ایندھن
کہ میں خدا کی طرف تھا نہ آدمی کی طرف سحر سے دو ہی قدم پہلے میرا دم ٹوٹا مجھے اندھیرے سے جانا تھا روشنی کی طرف
معلیٰ
کہ میں خدا کی طرف تھا نہ آدمی کی طرف سحر سے دو ہی قدم پہلے میرا دم ٹوٹا مجھے اندھیرے سے جانا تھا روشنی کی طرف
سانس لینے سے طے نہیں ہوگا
عشق حاصل ہے ، آپ لاحاصل
تعلقات کی سڑکیں نئی نئی ہیں ابھی
سو آئینے میں بھی حیرت ہے پتلیوں جیسی ہمارے بیچ اٹھائی ہے وقت نے دیوار میں جگنوں کی طرح ہوں ، وہ تتلیوں جیسی اور اس کے بعد کا موسم بیان سے باہر ہے میں دھوپ سرد دنوں کی، وہ کھڑکیوں جیسی ہوا بھی چلتی ہوئی اورچراغ جلتا ہوا وہ بولتی ہوئی ،آواز تلخیوں جیسی […]
ہمارے سامنے رکھی تھی حکمرانی بھی
انساں کا ہے مقام کہاں تک بتا گئے قیصرؔ اب اس سے بڑھ کے ہو کیا درسِ زندگی جینا سکھا گئے ، ہمیں مرنا سکھا گئے
موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو روز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ […]
ایں آتشِ عشق است، نسوزد ہمہ کس را اہلِ ہوس (محبت کے جھوٹے دعوے داروں) کو محبت کے سوز اور جلن کی کیا خبر اور اس کا علم کیسے ہو؟ کہ یہ عشق کی آگ ہے یہ ہر کسی، ہر کہ و مہ کو نہیں جلاتی۔
فارغ نشیں کہ بر دہِ ویراں خراج نیست اہلی، یہ مت کہہ کہ (عشق کی وجہ سے) عقل و دل و دین سب کچھ چلا گیا (اور عشق نے مجھے ویران کر دیا) بلکہ مطمئن ہو جا کیونکہ ویران زمین پر کسی بھی قسم کا کوئی خراج نہیں ہوتا یہ شعر بالخصوص پہلا مصرع تغیرات […]