کہاں سے لاتا ادائیں وہ لڑکیوں جیسی

سو آئینے میں بھی حیرت ہے پتلیوں جیسی ہمارے بیچ اٹھائی ہے وقت نے دیوار میں جگنوں کی طرح ہوں ، وہ تتلیوں جیسی اور اس کے بعد کا موسم بیان سے باہر ہے میں دھوپ سرد دنوں کی، وہ کھڑکیوں جیسی ہوا بھی چلتی ہوئی اورچراغ جلتا ہوا وہ بولتی ہوئی ،آواز تلخیوں جیسی […]

کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو روز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ […]

اہلی مگو کہ عقل و دل و دیں ز دست رفت

فارغ نشیں کہ بر دہِ ویراں خراج نیست اہلی، یہ مت کہہ کہ (عشق کی وجہ سے) عقل و دل و دین سب کچھ چلا گیا (اور عشق نے مجھے ویران کر دیا) بلکہ مطمئن ہو جا کیونکہ ویران زمین پر کسی بھی قسم کا کوئی خراج نہیں ہوتا یہ شعر بالخصوص پہلا مصرع تغیرات […]