باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے

کچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کے دل خوں ہو شب وصل بھی حسرت میں نہ کیوں کر دیکھیں نہ وہ خلوت میں بھی جب آنکھ اٹھا کے فرمائیے ہم سے تھی یہی شرط محبت خوب آپ نے رسوا کیا غیروں میں بلا کے کوچے میں نہ آئے کوئی میں جان گیا ہوں […]

تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی

کیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی بھولے ہیں غزالان حرم راہ خطا سے تم نے عجب انداز کی رفتار نکالی دھڑکا مرے نالہ کا رہا مرغ سحر کو آواز شب وصل نہ زنہار نکالی ہر گھر میں کہے رکھتے ہیں کہرام پڑے گا گر لاش ہماری سر بازار نکالی آخر مری تربت سے اگی […]

جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے

قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے ابروئے یار دل کا خنجر ہے مژۂ یار نوک نشتر ہے چشم عاشق سے دو بہے دریا ایک تسنیم ایک کوثر ہے خانۂ دل ہے غیر سے خالی شوق سے آؤ آپکا گھر ہے قطعی آج فیصلہ ہوگا تیری تلوار ہے مرا سر ہے اب تو دھونی رما کے بیٹھے […]

عالمِ دیگر بہ دست آور کہ در زیرِ فلک

گر ہزاراں سال می مانی ہمیں روز و شب است اگر تُو تغیر و تبدیلی چاہتا ہے تو کوئی نیا جہان پیدا کر کیونکہ اِس آسمان کے تلے اگر تُو ہزاروں سال بھی زندہ رہے گا تو یہی شب و روز ہونگے

می نمایند ہمی گنبدِ دستارِ سفید

لیک غافل ز درونہائے سیہ کارِ خودند (ریا کار) اپنی اس سفید دستار کے گنبد کی تو بہت نمائش کرتے ہیں اور اسے نمایاں کرتے ہیں لیکن اس کے اندر، اپنی سیاہ کاریوں سے مکمل طور پر غافل ہیں