اے دیر بدست آمدہ بس زُود برفتی
آتش زدی اندر من و چوں دُود برفتی اے کہ تُو بہت دیر کے بعد مجھے ملا اور بہت جلد ہی چلا گیا تُو نے میرے جسم و جان کے اندر آگ لگا دی اور خود دھوئیں کی طرح چلا گیا
معلیٰ
آتش زدی اندر من و چوں دُود برفتی اے کہ تُو بہت دیر کے بعد مجھے ملا اور بہت جلد ہی چلا گیا تُو نے میرے جسم و جان کے اندر آگ لگا دی اور خود دھوئیں کی طرح چلا گیا
خود نغمہ می سرایم و خود گوش می کنم میں اپنے بند اور خاموش لبوں سے اپنے ساتھ ہی باتیں کرتا ہوں یعنی خود ہی نغمہ سرائی کرتا ہوں اور خود ہی سنتا ہوں
کچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کے دل خوں ہو شب وصل بھی حسرت میں نہ کیوں کر دیکھیں نہ وہ خلوت میں بھی جب آنکھ اٹھا کے فرمائیے ہم سے تھی یہی شرط محبت خوب آپ نے رسوا کیا غیروں میں بلا کے کوچے میں نہ آئے کوئی میں جان گیا ہوں […]
کیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی بھولے ہیں غزالان حرم راہ خطا سے تم نے عجب انداز کی رفتار نکالی دھڑکا مرے نالہ کا رہا مرغ سحر کو آواز شب وصل نہ زنہار نکالی ہر گھر میں کہے رکھتے ہیں کہرام پڑے گا گر لاش ہماری سر بازار نکالی آخر مری تربت سے اگی […]
قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے ابروئے یار دل کا خنجر ہے مژۂ یار نوک نشتر ہے چشم عاشق سے دو بہے دریا ایک تسنیم ایک کوثر ہے خانۂ دل ہے غیر سے خالی شوق سے آؤ آپکا گھر ہے قطعی آج فیصلہ ہوگا تیری تلوار ہے مرا سر ہے اب تو دھونی رما کے بیٹھے […]
تو میوۂ سرِ شاخِ بلند را چہ خبر اُمیدوں اور آرزؤں کا وہ دامن کہ جو ہم تہی دست پھیلائے ہوئے کھڑے ہیں تُو کہ بلند و بالا، اونچی شاخ کا میوہ ہے تجھے اس پھیلے ہوئے دامن کی کیا خبر
ہمہ گویند ولے گفتۂ سعدی دگر است سعدی کے نالۂ مستانہ سے رہی مسرور و سرمست و سرخوش ہے سبھی (کلام) کہتے ہیں لیکن سعدی کا کہا ہوا کچھ اور ہی ہے
گر ہزاراں سال می مانی ہمیں روز و شب است اگر تُو تغیر و تبدیلی چاہتا ہے تو کوئی نیا جہان پیدا کر کیونکہ اِس آسمان کے تلے اگر تُو ہزاروں سال بھی زندہ رہے گا تو یہی شب و روز ہونگے
لیک غافل ز درونہائے سیہ کارِ خودند (ریا کار) اپنی اس سفید دستار کے گنبد کی تو بہت نمائش کرتے ہیں اور اسے نمایاں کرتے ہیں لیکن اس کے اندر، اپنی سیاہ کاریوں سے مکمل طور پر غافل ہیں
سزائے آنکہ طبیعت زمانہ ساز نبُود اپنی تمام تر بلند ہمتی کے ساتھ خاکِ سیہ پر (بے خانماں و تباہ حال) بیٹھے ہوئے ہیں، اس جرم کی سزا میں کہ ہماری طبیعت زمانہ ساز نہ تھی