مکن ز سنگدلی جور بر منِ مسکین
کہ آخر ایں دلِ مسکیں دل است، نے سنگ است اپنی سنگدلی کی وجہ سے مجھ مسکین پر اتنے ظلم و ستم نہ کر کہ آخر یہ مسکین و بیچارہ دل ایک دل ہی ہے کوئی پتھر تو نہیں
معلیٰ
کہ آخر ایں دلِ مسکیں دل است، نے سنگ است اپنی سنگدلی کی وجہ سے مجھ مسکین پر اتنے ظلم و ستم نہ کر کہ آخر یہ مسکین و بیچارہ دل ایک دل ہی ہے کوئی پتھر تو نہیں
گر کسی گوید کہ با یوسف زلیخا دشمن است (اے محبوب) تیرے عہد میں مہر و وفا و عشق و محبت کا ایسا کال پڑا ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ زلیخا یوسف کی دشمن ہے تو میں (ایسی محال بات کا بھی) یقین کر لیتا ہوں
بخت اگر از ساکنانِ شہرِ کشمیرم کند اے صائب، میں اپنے سر سے جنت کی خواہش بھی نکال دوں، قسمت اگر مجھے شہرِ کمشیر کا ساکن بنا دے تو
بہ بزمت عاشقِ دیوانہ آدابے دگر دارد یہاں (محبوب کی بزم میں) ہاتھ سر پر (رکھ کر واویلا) نہیں ہوتا، بلکہ ہاتھ میں سر (رکھ کر ہیش) ہوتا ہے، تیری بزم میں عاشق دیوانوں کے کچھ اور ہی آداب ہوتے ہیں
تیر را پرواز بخشد، مُرغ را بے پر کند ظالموں کا دوست آسمان جب عاجزوں کو مارنے پر آتا ہے تو (ظلم کی انتہا کرتے ہوئے ظالم کے) تیر کو (شکار کے لیے پرواز بخش دیتا ہے اور پرندے بیچارے کو آسانی سے شکار ہو جانے کے لیے)بے پر کر دیتا ہے
ور ظلم کنی سگِ عوانت خوانند چشمِ خردت باز کن و نیک ببیں تا زیں دو کدام بہ کہ آنت خوانند (اے صاحبِ اختیار و اقتدار) اگر تُو عدل کرے گا تو تجھے سارے جہان سے زیادہ نیک کہیں گے اور اگر تُو ظلم کرے گا تو تجھے خونخوار، سخت گیر کتا کہیں گے۔ ذرا […]
فریادِ اسیراں بیک اسلوب نباشد اُن کی زنجیر کا ہر حلقہ (بھی) ایک الگ اور نئی ہی طرز میں نالہ کرتا ہے اسیروں کی فریادیں ایک ہی اسلوب، ایک ہی طرز میں نہیں ہوتیں
قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا
نظر بھی پہچان کے یہ ان کو، جو رہنما ہیں دلوں میں بس کے گئے ہیں آگے وہاں سے بڑھ کر، حجابِ عرش بریں میں ہو کر جہاں پر سدرہ نشیں کی جرأت پروں کو بھی باندھتی ہے کس کے
یہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں جان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں جان کا خواہاں مگر اے دل نہیں تجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر یہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں رہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں وہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں جو نہ سسکے وہ ترا کشتہ […]