خرد کا جامہٴ پارینہ تار تار نہیں
جنونِ عشق ابھی تجھ پہ آشکار نہیں ہمارے ذوقِ طلب میں نہ فرق آئے گا وہ ایک بار کہے یا ہزار بار نہیں بہ طرزِ عام نہیں میری بادہ آشامی رہینِ بادۂ باطل مرا خمار نہیں رہِ طلب کے مصائب بھی عین راحت ہیں گلِ مراد سے وابستہ خار خار نہیں تمہارے وعدوں پہ دل […]