آہ کش ہوں نہ لب کشائی ہے

اے محبت تری دہائی ہے جب سے توحید کی پلائی ہے دل پہ مستی عجیب چھائی ہے موت بڑھ کر قریب آئی ہے طولِ ہجراں تری دہائی ہے ذرہ ذرہ سے آشکارا وہ خود نمائی سی خود نمائی ہے ہیں عجب چیز ناصحِ ناداں جب ملے جان ہی چھڑائی ہے حشر میں وہ ہے شافعِ […]

باصواب آئے ناصواب آئے

آہِ دل کا مگر جواب آئے سرِ محفل وہ بے نقاب آئے کہنے والوں کو کچھ حجاب آئے بن ترے کوئی شب کہاں گزری تو نہ آیا تو تیرے خواب آئے جمع ہیں اہلِ ذوق و اہلِ صفا ساقیا اب شرابِ ناب آئے بزمِ ہستی میں کون ٹھہرا ہے جو بھی آئے وہ پارکاب آئے […]

بس لا تعلقی کی فضا درمیاں نہ ہو

نا مہرباں سہی تو اگر مہرباں نہ ہو تو شکوۂ جفا سے مرے سرگراں نہ ہو اب جی میں طے کیا ہے کہ منہ میں زباں نہ ہو لوحِ جبیں اٹھائے رکھوں سر پہ کس لیے سر تن پہ کیوں رکھوں جو ترا آستاں نہ ہو حرص و ہوس کی راہ میں اف کارواں چلا […]

بہ ہر پہلو مجھے آٹھوں پہر معلوم ہوتی ہے

محبت کی خلش اب معتبر معلوم ہوتی ہے تقاضے لا الہ کے ہم نفس اُتنے ہی زیادہ ہیں بظاہر بات جتنی مختصر معلوم ہوتی ہے بہ ہر لغزش جھجکتا ہوں، سنبھلتا ہوں، ٹھہرتا ہوں نگہباں رحمتِ خیر البشر معلوم ہوتی ہے خدا بیزاریِ دنیا فزوں تر آئے دن ہے کیوں یہ تہذیبِ فرنگی فتنہ گر […]

بہم جو دست و گریباں یہ بھائی بھائی ہے

کبھی تو غور کرے کس کی جگ ہنسائی ہے فغاں ہے لب پہ مری آنکھ بھی بھر آئی ہے غموں سے آہ کہ دل نے شکست کھائی ہے مٹا ہی دے گا زمانہ تمہیں نہ گر جاگے خبر یہ گردشِ لیل و نہار لائی ہے ترے ہی دل میں حرارت نہیں رہی ورنہ وہی ہے […]

بے تابیاں نہیں ہیں کہ رنج و الم نہیں

اِس ایک دل پہ عشق کے کیا کیا کرم نہیں دو دن کی زندگی اسے صدیوں سے کم نہیں وہ کم نصیب ہے جسے توفیقِ غم نہیں دنیا ستم طراز سہی کوئی غم نہیں دنیا سے بھاگ جائیں مگر ایسے ہم نہیں منزل مری جدھر ہے رخِ دل اُدھر کہاں صد حیف مجھ سے دل […]

تو اے غافل ابھی محرم نہیں ہے

نشاطِ دل سقوطِ غم نہیں ہے نگاہِ عشق ہی محرم نہیں ہے اشارہ حسن کا مبہم نہیں ہے عذابِ آخرت کو سوچیے کیا عذابِ زندگی کچھ کم نہیں ہے ہجومِ غم سے مشکل سانس لینا یہ جینا موت سے کچھ کم نہیں ہے گناہوں سے مبرّا ہو تو کیوں کر فرشتہ کچھ بنی آدم نہیں […]

جذبۂ عشقِ شہِ ہر دو سرا ہے کہ نہیں

دیکھیے دل کو مسلمان ہوا ہے کہ نہیں کون سا زیست میں وہ تلخ مزا ہے کہ نہیں ایسے جینے سے تو مرنا ہی بھلا ہے کہ نہیں میری ہر بات پہ تم نے جو کہا ہے کہ نہیں خود ہی سوچو یہی جھگڑے کی بنا ہے کہ نہیں حوصلہ ہے کہ میں محرومِ بیاں […]

جو راہِ حق سے طبیعت کبھی بھٹکتی ہے

مثالِ خار کوئی دل میں شے کھٹکتی ہے جہاں بھی دیکھیے انسانیت سسکتی ہے رُخِ حیات سے حسرت سی اک ٹپکتی ہے جو محوِ خواب تھے دنیا سے ٹھوکریں کھائیں کھلی جو آنکھ تو دنیا ہمیں تھپکتی ہے جو سوچتا ہوں کہ تعمیرِ آشیاں کر لوں معاً خیال میں بجلی سی اک چمکتی ہے اٹھا […]

جہاں میں جنسِ وفا کم ہے کالعدم تو نہیں

ہمارے حوصلۂ دل کو یہ بھی کم تو نہیں ہم ایک سانس میں پی جائیں جامِ جم تو نہیں سرشکِ غم ہیں پئیں گے پر ایک دم تو نہیں تمہارے قہر کی خاطر اکیلے ہم تو نہیں نگاہِ مہر بھی ڈالو تمہیں قسم تو نہیں خدا کا گھر ہے مرا دل یہاں صنم تو نہیں […]