لب واقفِ ثنائے امارت نہ ہو سکے
حیدرؔ فقیر گوشہ نشیں تھا ، غیور تھا
معلیٰ
حیدرؔ فقیر گوشہ نشیں تھا ، غیور تھا
اب ہاتھ میں ہوں دامنِ صحرا لیے ہوئے
یہ دونوں پستیاں ہیں میں ان سے بلند ہوں
یہ آگ وہ ہے جو بجھنے میں نہیں آتی
یہ خواہشوں کا سمندر کبھی نہیں بھرتا
کسی کے نام سے آرائشِ بیاں تھی کبھی
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
دن بھر جلا کے شب کو بھجایا گیا ہوں میں
اِن کی ہمدردی میں پنہاں مرہمِ زخمِ جگر یہ بسا دیتی ہیں اُجڑے گھر ذرا سی بات میں اس جہاں کی زندگی عورت ہے ، قصہ مختصر
گوہرِ رخشاں کو وقفِ قعرِ دریا کر دیا ہے نظامِ زندگی بالاتر از ادراک و فہم بس یہی کہیے کہ اس نے جو بھی چاہا کر دیا