محبت کو دعائیں دے رہا ہوں
کہاں میں اور کہاں یہ دولتِ غم
معلیٰ
کہاں میں اور کہاں یہ دولتِ غم
آؤ ہم بھی زخموں کا سلسلہ دکھاتے ہیں
کیسے کہوں سورج کو نکلتے نہیں دیکھا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے تجربہ ہمارا ہے
کسی بزرگ کی سچی دعا سا لگتا ہے
وہ کیا کھیلیں کھلونوں سے جنہیں بچپن نہیں ملتا
دیکھیے تو حصار سے باہر
اور لوگ کہہ رہے ہیں اک جھونپڑا جلا ہے
لہو رنگ موسم ہے حدِ نظر تک
سوال فاسق جواب خالق —— راہ اقبال پر چلنے کی تمنا کر کے دل بھی رنجیدہ ہےالٰلّه سے شکوہ کر کے اصفیا سمجھیں گے ہر بات کہ صوفی میں ہوں کیا زمانے کو ملے گا مجھے رسوا کر کے —— —— شکوہ —— —— تیری رحمت کو نہ کیوں دیدہ پر نم ڈھونڈھے ہے جسے […]