اردوئے معلیٰ

سوال فاسق جواب خالق
——
راہ اقبال پر چلنے کی تمنا کر کے
دل بھی رنجیدہ ہےالٰلّه سے شکوہ کر کے
اصفیا سمجھیں گے ہر بات کہ صوفی میں ہوں
کیا زمانے کو ملے گا مجھے رسوا کر کے
——
——
شکوہ
——
——
تیری رحمت کو نہ کیوں دیدہ پر نم ڈھونڈھے
ہے جسے تیری ضرورت وہی پیہم ڈھونڈھے
پھول کو گلشن ہستی میں بھی شبنم ڈھونڈ ھے
! خلد آدم کو کبھی خلد کو آدم ڈھونڈ ھے

شکوۂ عبد بھی سن کر تیرا پردہ نہ اُٹھا
تیری مرضی تو مجھے جلوہ دکھا یا نہ دکھا

طالب مدح تھا اب طالب شکوہ میں ہوں
جو ہے دریا کا طلبگار وہ قطرہ میں ہوں
تو ہے معبود مرا اور ترا بندہ میں ہوں
مالک حسن ہے تو عشق کا جلوہ میں ہوں

اپنے عاشق کو محبت کی سزا کس نے دی
بر سر دار انا الحق کی صدا کس نے دی

مشت بھر خاک سے اور ہستی آدم کا وجود
میں نے مانا یہ تری کارا گری ہے معبود
اور فرشتے پس آدم بھی ہوئے سر بہ سجود
ہیں اُسی نسل سے کیونکر یہ مسلمانو ہنود

کچھ نصیری ہیں نصارا بھی ہیں عیسائی بھی
جز مرے کرتے ہیں کیا تیری پذیرائی بھی

تیرے کلمے کا بھی اعلان کیا ہے ہم نے
کتنی قوموں کو مسلمان کیا ہے ہم نے
قریہ قریہ تجھے ذیشان کیا ہے ہم نے
مرحلہ سخت تھا آسان کیا ہے ہم نے

ہم اگر حق پر ہیں تو عرش سے آواز تو دے
یا بلالے ہمیں اور قوت پرواز تو دے

نام مسجد ہے ترا گھر جو بنا رکھا ہے
فرش عصمت کو بھی سجدوں سے سجا رکھا ہے
یاد میں نے بھی تجھے وقت دعا رکھا ہے
پر دُعاؤں میں اثر تو نے بھی کیا رکھا ہے

جینے والے کو دعا دیتا ہوں مر جاتا ہے
میرے ایمان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے

میں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتا ہوں
سجده شکر بصد شوق ادا کرتا ہوں
میں بہر حال تجھے راضی رضا کرتا ہوں
بخش دے میری خطائیں یہ دُعا کرتا ہوں

تو اگر ہے تو عمل کی مرے تائید بھی کر
جاری میرے لئے تو چشمہ تو حید بھی کر

لامکاں تو ہے حرم اصل تیرا گھر بھی نہیں
وہ کلیسا بھی نہیں مسجد و مندر بھی نہیں
تیرے رہنے کی جگہ یہ دل مضطر بھی نہیں
نور جب تو ہے ترا پھر کوئی ہمسر بھی نہیں

چاند سمجھوں تجھے سورج یا ستارہ سمجھوں
کوئی پہچان بتا کچھ تو اشارہ سمجھوں!

حق تجھے مان لیا خود ر ہے عابد بن کر
بندگی کی ہے تری واقعی زاہد بن کر
دعوتیں بانٹیں ترے دین کا قاصد بن کر
جو مخالف ہوا لڑ بیٹھے مجاہد بن کر

ہر جگہ پرچم توحید کو گاڑا کس نے
باب خیبر کو دو انگلی سے اُکھاڑا کس نے

نام زندہ ر ہے تیرا کہ اُٹھائی افتاد
جب سنائی تو سنائی تجھے اپنی روداد
تیغ باطل سے نہتھا لڑا بن کر فولاد
مڑ کے دیکھا نہ کبھی گھر کی طرف وقت جہاد

فوج اعدا نہ رہی جنگ کے منظر بدلے
میری ٹھوکر سے ہی پتھر کے مقدر بد لے

میں نے کردار زمانے کا پلٹتے دیکھا
تیرا پھیلا ہوا اسلام سمٹتے دیکھا
تو نے کب جنگ میں پیچھے مجھے ہٹتے دیکھا
کٹ گیا میرا گلا تو نے بھی کٹتے دیکھا

آسماں میری دعاؤں سے کہیں دُور نہ تھا
رن میں مجبور تھا میں تو کوئی مجبور نہ تھا

تیرا ادنی سا کرشمہ ہیں سبھی شجر و حجر
تو نے پیدا کئے دریاؤں میں بھی لعل و گہر
اتنی فرصت بھی نہ دی دیکھتا سارے منظر
مجھکو دوڑاتا رہا ہاتھ میں پرچم دیگر

تیرے اسلام کی تبلیغ مرے دم سے ہوئی
تیری دنیا کی شروعات بھی آدم سے ہوئی

لات و عزہ و ہبل کا تو بڑا لشکر تھا
غاصبانہ جہاں قبضہ تھا وہ تیرا گھر تھا
جب خدائی تھی تری تب بھی خدا پتھر تھا
گویا تخلیق بتا ں کیلئے اک آزر تھا

ہم نے طوفان نحوست کی روش موڑی ہے
یعنی پتھر کے خداؤں کی کمر توڑی ہے

تیرا محبوب نہ ہوتا تو ترا کیا ہوتا
بندگی کا تری ہر موڑ پہ سودا ہوتا
تجھکو سجدہ نہیں پھر غیر کا سجدہ ہوتا
کیسا لگتا تجھے میں کہتا جو اچھا ہوتا

سن کے یہ بات میری تجھکو جلال آجاتا
تجھکو محبوب کا اُس وقت خیال آجاتا

فاقہ کرتے ہیں مسلمان شکم سیر ہنود
شکر کرتے ہیں ادا، پھر بھی ترا سر بہ سجود
کیوں نہیں دیکھتا جب ہر جگہ تو ہے موجود
تجھکو پرواہ نہیں ہے میری شاید معبود

تو ہے رزاق تو ہی سبکو غذا دیتا ہے
پھر مجھے کس لئے تو بھوکا سلا دیتا ہے

ذہن قاصر ہے کہ میں کیسے گنہگار ہوا
تیری رحمت کا بحر کیف طلبگار ہوا
پھر بھی تیرا نہ کسی موڑ پہ دیدار ہوا
میں تولد ہوا دنیا میں یہ بیکار ہوا

تو ہے معبود تو بندے سے جدائی کیسی
جو میرے کام نہ آئے وہ خدائی کیسی

کیا ستم ہے ترا پہلے مجھے جنت دیدی
میں نے مانگی نہ تھی خود اپنی خلافت دیدی
اپنی من مانی جو چاہی وہ وصیت دیدی
اور پھر خلد بدر ہو یہ اجازت دیدی

مجھکو دنیا میں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دیا
تو نے اک مٹی کے انسان کا دل توڑ دیا

جب مٹانا ہی تھا کیوں مجھکو بنایا تو نے
کیوں فرشتوں سے مرا سجدہ کرایا تو نے
کیوں بلندی پہ بیٹھا کر یوں گرایا تو نے
کیسا احسان ترا جو کہ جتایا تو نے

اے خدا تو ہی بتا کیا یہ تری مرضی ہے
یہ جو مرضی ہے تری اس میں بھی خود غرضی ہے

تیری دھرتی ہے مگر صورت دہقاں ہم ہیں
ایک اک دانہ گندم کے نگہباں ہم ہیں
زینت غنچۂ گل بھی ہیں گلستاں ہم ہیں
تیری دنیا کی سجاوٹ کے بھی ساماں ہم ہیں

امتحاں پھر بھی ہمیں سے ترا منشا کیا ہے
تیری رحمت نے گہنگار کو سمجھا کیا ہے

ہم سے پہلے تیرے عالم کے عجب عالم تھے
مشت بھر خاک نہ تھی اور نہ کوئی آدم تھے
جب ہوئی کا را گری تیری وہاں پر ہم تھے
کیا عبادت کے لئے تیری ملائک کم تھے

ہم کو بے وجہ بنایا کوئی احسان نہیں
ہم سے پہلے تو تری کوئی بھی پہچان نہیں

میرے اعمال بھلے اور بُرے تونے کئے
کام زیبا جو ہیں تجھکو وہ ترے تو نے کئے
زخم ماضی کے تھے دل میں جو ہرے تو نے کئے
در احساس مرے کھوٹے کھرے تو نے کئے

تیری مرضی میں جو آئے وہی تو کرتا ہے
پھول سے رنگ جدا اور کبھی بو کرتا ہے

پتے صحرا پہ اگر ایڑیاں رگڑی ہم نے
پیاس پیاسوں کی بجھائی ہے اُسی زم زم نے
بالیقیں حسنِ عمل دیکھ لیا عالم نے
لاج آدم کی بچا رکھی ہے اک آدم نے

تو اگر چاہتا کوثر بھی پلا سکتا تھا
تشنہ لب کو لب کوثر بھی بلا سکتا تھا

مسجد اقصیٰ پر قابض ہیں عدوئے اسلام
جنگ ہم کرتے ہیں تو کرتا ہے ہم کو ناکام
یعنی مقصد ہے ترا ہم رہیں ہو کے بدنام
اب نہیں چلتا کہیں نعرہ تکبیر سے کام

یہ بتا کب تری رحمت بھلا ساتھ آے گی
مسجد اقصیٰ فلسطین کے ہاتھ آے گی

یہ صداقت ہے ترے نام پہ ایماں رکّھا
طاق دل پر ترے اخلاص کا قرآں رکّھا
تجھ کو ممدوح کہا دل کو ثنا خواں رکّھا
بزم عصمت میں ترا ذکر چراغاں رکّھا

اس مشقت کے عوض تو نے مجھے خوار کیا
یہ خطا مجھ سے ہوئی میں نے تجھے پیار کیا

جرم کیا ہے میرا محشر جو بپا ہونا ہے
اتنا معلوم ہے بندے کو سزا ہونا ہے
تجھ سے سمجھوتا بھی کیا تجھ سے جدا ہونا ہے
تو خفا ہو جا اگر تجھکو خفا ہونا ہے

جن و انساں ملے دوزخ میں جلانے کیلئے
باقی ہر شئے ہے کیا جنت میں سجانے کیلئے
——
——
جواب شکوہ
——
——
دیدہ یاس ترا کیا مرا جلوہ دیکھے
چشم ایماں میری رفعت کا تجلّا دیکھے
کن فیکن نہ کبھی وعدہ فردا دیکھے
کوئی غش کھائے کوئی طور کو جلتا دیکھے

تو مری شان کا اندازہ نہ کر پاے گا
تو اگر جلوہ مرا دیکھے گا جل جاے گا

پر عیاں شکوہ بیانی سے ہے سیرت تیری
دعوئ مد ح نہ کر وا ہے حقیقت تیری
ارضِ کونین پہ اک داغ ہے خلقت تیری
شرحِ اظہارِ تماشہ ہے محبّت تیری

کچھ بھی ظاہر ہو تو منصور نہیں ہو سکتا
ذرۂ نحس کبھی طور نہیں ہو سکتا

پتلہ خاک ہے حامئ تکبر کیسے
راہ کے ذروں کو کہہ دیگا کوئی در کیسے
دور ماضی میں ہوئے اہلِ تفکر کیسے
وہ تھے بندے مرےپر تیرے تصور کیسے

کچھ ہیں تاریک دل کچھ حاصلِ تنویر بھی ہیں
گویا صحرا میں اسد بھی ہیں تو خنزیر بھی ہیں

میرا محبوب منادی ہے مرے کلمے کا
جنتی وہ ہے جو عادی ہے مرے کلمے کا
اس کی جنت جو جہادی ہے مرے کلمے کا
تیرا کیا تو تو فسادی ہے مرے کلمے کا

کنکروں نے تری مٹھی میں پڑھا ہے کلمہ
تو ہے بوجہل نہ سمجھا مرا کیا ہے کلمہ

کون سے فرقے کی مسجد کے بھلا بانی ہو
تم عرب والے، ترک ہو ،یا کہ ایرانی ہو
یہ کہو اہلحدیث ہو ، کہ رضا خانی ہو
دعوت الحق ہو ،یا تم خادمِ حقانی ہو

میرے قرآن میں ان فرقوں کے تو نام نہیں
جو محمد کا نہیں اُس کا کوئی کام نہیں

کب کہا میں نے کہ تسبیح رہے وردِ زباں
سجدۂ شکر بھی لگتا ہے تجھے بار گراں
مرتد دیں کی علامت ہے ترا وہم و گماں
پھر بھی بروقت دعاؤں پہ ہے اپنی نازاں

با عمل تو نہیں تو واقف تقلید نہیں
جذبہ شر بھی ترا مائلِ تمہید نہیں

لامکاں جب ہوں ہر اک جا ہے مرے گھر کی طرح
چاند سورج ہیں میرے نور کے محور کی طرح
میں کوئی دشت و جبل ہوں نہ سمندر کی طرح
مجھ کو سمجھے نہ کوئی دیو کے پتھر کی طرح

نور ہوں کب دل مومن سے جدا رہتا ہوں
اپنے بندوں کی میں شہہ رگ میں چھپا رہتا ہوں

حامئ نفس ہے تو کب کوئی عابد نکلا
نشئہ مے میں جو کھو جائے وہ زاہد نکلا
خود ترا نامہ اعمال شواہد نکلا
حق پہ ٹھہرے نہ قدم ایسا مجاہد نکلا

تو مجاہد کی کسی خاک کفِ پا بھی نہیں
تیرا اسلام نہیں تیرا پھریرا بھی نہیں

میرا پیغامِ عمل جسکو بھی مقصود ہوا
وہ بظاہر کبھی خالد کبھی محمود ہوا
جب ضرورت پڑی جس کی وہی مولود ہوا
جو مخالف ہوا میرا وہی نمرود ہوا

میں اگر چاہوں تو سورج بھی نہیں ڈھل سکتا
آگ میں کیسے براہیم مرا جل سکتا

وہ تو باطل تھا جو کردار پلٹتے دیکھا
تو نے کب دین کی وسعت کو سمٹتے دیکھا
تجھکو ہمت دی تجھے حق سے نہ ہٹتے دیکھا
میں رضا مند تھا جو سر ترا کٹتے دیکھا

اس لئے میں نے بنایا تجھے سردار جناں
میری مرضی نہ سمجھ پائیگی عقل انساں

جس کی تمثیل نہیں ایسی ہے قدرت میری
سنگ ریزے بھی کیا کرتے ہیں مدحت میری
سورہ اخلاص سے ظاہر ہے حقیقت میری
کل جہانوں پہ مسلط ہے حکومت میری

دین میرا تری تبلیغ کا محتاج نہیں
کون سی شئے ہے وہ جس پر کہ مرا راج نہیں

تو نے کعبے کو مرے خانہ اصنام کیا
تین سو ساٹھ خداؤں نے بڑا نام کیا
تیری کاوش نے تجھے مرید اسلام کیا
پر مرے شیر کی ہمت نے بڑا کام کیا

میرے محبوب کے کاندھوں پہ کھڑا تھا کوئی
عرش اعظم کے تصور سے بڑا تھا کوئی

فرش سے عرش تلک جو ہے مجھے پیارا ہے
جو مرے حکم کا منکر ہے وہ ناکارہ ہے
صرف ایک ضرب کلیمی کا یہ نظاّرہ ہے
غرق دریا ہوا فرعون ستم ہارا ہے

میری وحدت نے اشارے سے کہاں کام لیا
میرے شیدائی نے ہر وقت مرا نام لیا

میرے گھر کو تو براہیم نے تعمیر کیا
تونے تو گر جاو بت خانے میں تکسیر کیا
کام جو تونے کیا لائقِ تکفیر کیا
سب کو ملاّ و برہمن نے گرہ گیر کیا

جو محمد نے بتایا وہ عبادت نہ رہی
اپنے وعدے پر اٹل کیوں تری نیّت نہ رہی

ہے مرے نور سے تخلیقِ رسول عربی
کرلے قرآن میں تحقیقِ رسول عربی
آیتیں کرتی ہیں تصدیقِ رسولِ عربی
کی ہے نبیوں نے بھی توثیقِ رسول عربی

سُن اے بندے تری ہر بات حماقت کی ہے
میرے محبوب نے بھی میری عبادت کی ہے

میں نے کونین بنائی تو بنائے ہیں اصول
مجھ سے اے آدم خا کی ترے شکوے ہیں فضول
یاد کر میرا کرم اُمتِ موسیٰ کو نہ بھول
میری مرضی سے ہوا تھا من وسلویٰ کا نزول

کون سمجھے گا کسے رزق میں کیا دیتا ہوں
کوہ میں رکھ کے بھی کیڑے کو غذا دیتا ہوں

یاد کر عالم ارواح کا وعدہ اپنا
بھول بیٹھا ہے فراموش مداوا اپنا
یعنی تلقینِ بخود دعوت سجدہ اپنا
میرے بندوں کو بناتا رہا بندہ اپنا

اہل ایماں کریں فرعون کو کیسے تسلیم
میرے منکر پہ مسلط ہے ابھی ضرب کلیم

شاکر از لی جو گزرے تیرے آبا وہ تھے
لائقِ سجدہ ہوں میں مائل سجدہ وہ تھے
بندگی کے لئے کوشاں دمِ لمحہ وہ تھے
ذہنِ ناقص نہ سمجھ پائیگا کیا کیا وہ تھے

آدم و حوا سے نسبت جہاں آرائی کی
تو ہے مستحق سزا تو نے جو رسوائی کی

خود غرض مجھ کو جو سمجھے وہ منافق تو ہے
تجھ میں ایمان نہیں فاجر و فاسق تو ہے
پسرِ آدم نہیں ابلیس کا سابق تو ہے
میرے محبوب کا میرا کہاں عاشق تو ہے

کلمہ پڑھ کر بھی نہ تو صاحبِ ایمان ہوا
لعنتیں تجھ پہ تو ابتک نہ مسلمان ہوا

ارضِ خاکی یہ تجھے صحرا و کہسار دیئے
ندیاں کھیتیاں کھلیان و چمن زار دیئے
باغ تجھ کو دیئے سر سبز ہی اشجار دیئے
جتنے اشجار دئیے وہ بھی تو پھل دار دیئے

تو جو حق تلفی کرے گا تو پشیماں ہوگا
ہوں گے اعمال ترے اور مرا میزاں ہوگا

ذرے ذرے کی زباں پر ہے شہادت میری
کون سمجھے گا کہاں تک ہے حکومت میری
خود فرشتے نہ سمجھ پائے مشیت میری
غیر ممکن کسی بت گر سے عبادت میری

نسل آدم پہ اگر میں نہ بھروسہ کرتا
تُو ہے کیا چیز میں آدم کو نہ پیدا کرتا

فکر ناقص ہے اگر ،فکر مطہّر بھی ہے
قلب تاریک اگر ہے تو منّور بھی ہے
آدم خاکی بھی ہے پیکر ہمسر بھی ہے
یعنی قطرہ جو ہے وسعت میں سمندر بھی ہے

میری رحمت سے تجھے بیر ہے منکر تو ہے
ظاہری طور پہ دوزخ کا مسافر تُو ہے

خاص بندہ ہے مر ا پسر براہیم ہے وہ
کیا صداقت ہے تیری لائقِ تعظیم ہے وہ
میری رحمت کو ہر اک حال میں تسلیم ہے وہ
مالک باغ جناں مالک تسنیم ہے وہ

جو پسندیدہ مرے رستے پہ چل سکتا ہے
وہ جہاں چاہے وہاں چشمہ ابل سکتا ہے

نام شامل جو میرا نعرۂ تکبیر میں ہے
زور لشکر میں ہے اور ڈھال میں شمشیر میں ہے
دین کیسے مٹے باطل اسی تدبیر میں ہے
قوم الجھی ہوئی علماء کی جو تقریر میں ہے

متحد ہو کے اگر یہ کرے باطل سے جہاد
پل میں ہو جائے نہ کیوں مسجد اقصیٰ آزاد

دل ہے سینے میں مگر جنبشِ ایمان نہیں
تیرا اطوار و چلن قارئ قرآن نہیں
میں ہوں ممدوح ترا پر تو ثنا خوان نہیں
تو کسی محفل عصمت میں بھی ذیشان نہیں

ہیں تِرے دامن پوشاک پر داغ عصیاں
کیسے محشر میں چھپائے گا سراغ عصیاں

تو وہ مجرم ہے جو احکا مِ ثنا بھول گیا
میرے محبوب سے اور مجھ سے وفا بھول گیا
سن کے قرآنِ مقدس کی صدا بھول گیا
یاد آرائش دنیا ہے قضا بھول گیا

تُو جدا مجھ سے ہے تُو میرا ملنسار نہیں
متقی خلد میں جائیں گے گنہگار نہیں

میرے محبوب کی جس نے بھی اطاعت کی ہے
اُس نے پنج وقتہ نمازوں میں بھی شرکت کی ہے
سنتیں کی ہیں ادا فرض عبادت کی ہے
اک محمد ہیں جنہیں فکر بس امت کی ہے

امتّی ہو تو محمد کے پرستار رہو
قصِر جنت ہیں تمہارے تمہیں حقدار رہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات