اردوئے معلیٰ

Search

 

دل تھام لیا اور جگر تھام لیا ہے

عشاق نے پھر جا کے ترا نام لیا ہے

 

وہ نامِ مبارک جو سرِ شام لیا ہے

تا صبح فرشتوں نے مرا نام لیا ہے

 

دنیا کے لئے نورِ ہدایت ہے سراپا

قرآن کی صورت میں وہ پیغام لیا ہے

 

جو ہو نہیں سکتا تھا کسی اور نبی سے

ان سے مرے اللہ نے وہ کام لیا ہے

 

فرمودۂ ربی ہے ‘رَفعنَا لَکَ ذِکرَک’

اللہ سے انعام سا انعام لیا ہے

 

درکار تھا بندوں کے لئے رب کو نمونہ

تو اسوۂ پیغمبرِ اسلام لیا ہے

 

العظمۃ للہ سرِ عرش پہنچ کر

حد درجہ بڑا تمغۂ اکرام لیا ہے

 

کس درجہ ہیں خوش بخت وہ میکش کے جنہوں نے

توحید کا ہاتھوں سے ترے جام لیا ہے

 

اک ہاتھ میں قرآن ہے اور اک میں شریعت

کیا چاہئے اب ہم کو انہیں تھام لیا ہے

 

جانے نہیں دیتی مجھے کیوں جانبِ طیبہ

کیا میں نے ترا گردشِ ایام لیا ہے

 

جاں مست ہے، دل مست ہے، روشن ہے نظرؔ بھی

میخانۂ وحدت سے ترے جام لیا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ