اردوئے معلیٰ

Search

 

فکر دوں پرواز ہے عقلِ بشر محدود ہے

کیسے تکمیلِ ثنا ہو راستہ مسدود ہے

 

اس نے سمجھایا ہمیں اللہ بس معبود ہے

خالقِ ہر شے ہے مالک ہے وہی مسجود ہے

 

لعل و یاقوت و زمرد سیم و زر بے سود ہے

گر وہی حاصل نہ ہو جو گوہرِ مقصود ہے

 

دیں کا اس کے بول بالا ہو تو ہے جنت نظیر

مثلِ صحرا ورنہ یہ دنیائے ہست و بود ہے

 

میرے پیغمبر پہ جو اتری ہے وہ ام الکتاب

ناسخِ تورات ہے وہ ناسخِ تلمود ہے

 

نام ہے غمازِ عظمت رتبہ ظاہر از مقام

وہ محمد ہے مقامِ آخرت محمود ہے

 

رات دن محنت بھی ہے سب کو دعائیں مستزاد

ہر طرح امت کے حق میں طالبِ بہبود ہے

 

جو نہ لائے اس پہ ایماں تا دمِ آخر نظرؔ

بارگاہِ ربِ دو عالم میں وہ مردود ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ