اردوئے معلیٰ

Search

احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا

ہوں مدح خواں نبیِ بشیر و نذیر کا

 

مالک ہے دو جہاں کے وہ تاج و سریر کا

محبوب ہے خدائے عزیز و قدیر کا

 

سر تاجِ انبیاء ہے وہ سرکارِ دو جہاں

اعزاز دیکھنا یہ یتیم و یسیر کا

 

ڈالے کوئی نگاہِ مسلسل نہیں یہ تاب

اللہ رے جمال رُخِ دل پذیر کا

 

سات آسماں کے پار بھی پھیلی ہے روشنی

یہ اوجِ بخت ہے اُسی بدرِ منیر کا

 

سامان اس کے گھر میں ہے اس درجہ مختصر

ہوتا ہے جس قدر کہ کسی راہ گیر کا

 

ہم پایہ واقعہ نہ ملے گا کہیں کوئی

اسرا کی شب کے واقعۂ بے نظیر کا

 

ظلمت کدہ میں اپنے وہی نور پاش ہے

پایا خطاب اس نے سراجِ منیر کا

 

اس نے ہی علم دے کے وسیع النّظر کیا

تھا آدمی فقیر یہ ورنہ لکیر کا

 

آرام گاہِ قبلۂ عالم کہیں جسے

مرجع ہے عاشقوں کے وہ جمِّ غفیر کا

 

ہشیار کر دیا ہمیں غفلت کی نیند سے

نعرہ لگا کے اس نے "اِلیہِ المَصیر” کا

 

اُف بے نیازی شہِ کونین اے نظرؔ

طاعم ہے بس کہ لقمۂ نانِ شعیر کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ