اردوئے معلیٰ

Search

 

جب نام لیا میں نے شہنشاہِ عرب کا

فی الفور لیا نطق نے بوسہ مرے لب کا

 

وہ نورِ نظر راحتِ دل بنتِ وہب کا

محبوبِ خداوند ہے محبوب ہے رب کا

 

مشہور زمانہ میں ہے امی وہ لقب کا

ہر قول مگر اس کا ہے شہ پارہ ادب کا

 

نقشہ ہے مرے ذہن میں معراج کی شب کا

چمکا ہے سرِ عرش بھی مہتاب عرب کا

 

نبیوں کی امامت کا سزاوار ہوا وہ

یہ عزّ و شرف بھی ہے اسی بندۂ رب کا

 

اس سرورِ کونین نے عسرت میں بسر کی

زنہار نہ طالب وہ ہوا عیش و طرب کا

 

دنیا میں رہا جو شہِ کونین کا پیرو

عقبیٰ میں نہیں خوف اسے رنج و تعب کا

 

ہے زیرِ نگیں اس کے ہی میخانۂ وحدت

ساغر طلبی شرط ہے ساقی ہے وہ سب کا

 

رہتی تھی سدا پیشِ نظرؔ بخششِ امت

غم تا دمِ آخر جو رہا، تھا ہمیں سب کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ