اردوئے معلیٰ

Search

خدا کے رحم کے ہر دم حصار میں رہنا

یہی ہے آرزو ان کے دیار میں رہنا

 

سرور ملتا ہے مجھکو خیال طیبہ سے

مجھے پسند ہے ایسے خمار میں رہنا

 

نہیں اوقات ہماری گلابِ طیبہ کی

ہمیں نصیب ہو اس کے غبار میں رہنا

 

لگائے بیٹھا ہوں میں آس کوئے جاناں کی

بہت کٹھن ہے مگر انتظار میں رہنا

 

سگان کوئے محمد میں گر گنے جائیں

قبول ہم کو ہے ان کے شمار میں رہنا

 

ذرا سا منظرِ طائف کو یاد کر مسلم

وہ سنگ باری کا سہنا ، وہ غار میں رہنا

 

بنایا دائرہ میں نے ثنائے احمد کا

نصیب مجھ کو ہو اب اس مدار میں رہنا

 

بنایا ہوتا کبوتر مجھے مدینے کا

طواف کرنا وہاں کا ، منار میں رہنا

 

سکون قلب کا اکسیر نسخہ ہے آسیؔ

نبی کی نعت کو پڑھنا ، قرار میں رہنا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ