اردوئے معلیٰ

Search

میں چیخ چیخ کے ہارا سخن کے پردے میں

مری صدا پہ کوئی کان بھی دھرے ، تب نا

 

میں جاں بلب ہی سہی ، آنکھ کسطرح موندوں

یہ سانس لیتا ہوا درد بھی مرے ، تب نا

 

میں چاہتا ہوں سنوں تیرے درد کا قصہ

مگر جنون مجھے بے زباں کرے ، تب نا

 

تمہارے ظرف کی مانند ، میری آنکھ نما

جگر کا زخم بھی کم بخت کچھ بھرے ، تب نا

 

شکست جھیل تو لی ہے شکست زادوں نے

یہ وحشتیں کبھی کم ہوں مگر ، ارے ، تب نا

 

تو فکر مند نہ ہو ، میں نہیں مروں گا ابھی

میں ہو سکوں ترے پہلو سےجب پرے ، تب نا

 

میں تجھ کو دیکھنا چاہوں تو کس طرح دیکھوں

نظر سے دور کبھی ہوں یہ ترمرے ، تب نا

 

میں نفرتوں سے ترے زخم چھیل سکتا تھا

مگر میں مانتا جو تیرے مشورے ، تب نا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ