اردوئے معلیٰ

Search

میری زباں پہ منقبتِ بو ترابؓ ہے

خورسند دل مرا ہے خوشی بے حساب ہے

 

پایا نبی سے شیرِ خدا کا خطاب ہے

معروف وہ بہ کنیتِ بو ترابؓ ہے

 

نگہِ رسولِ پاک کا وہ انتخاب ہے

خاوندِ نورِ عینِ رسالت مآب ہے

 

نورِ نبی پاک سے یوں بہرہ یاب ہے

جیسے ضیائے مہر سے یہ ماہتاب ہے

 

سر چشمۂ علوم سے وہ فیض یاب ہے

شیخِ حدیث و شارحِ ام الکتاب ہے

 

عالی مقام وہ ہے وہ عالی جناب ہے

پروردۂ نبی ہے فضیلت مآب ہے

 

دشمن ملائے آنکھ کہاں اتنی تاب ہے

چہرہ پہ وہ جلال ہے وہ رعب داب ہے

 

دنیائے چند روزہ میں وہ کامیاب ہے

اور آخرت میں صاحبِ حسن المآب ہے

 

شہرت رہی ہے اب بھی وہی آب و تاب ہے

دُرجِ صدف میں ایسا وہ اک دُرِّ ناب ہے

 

خیبر شکن ہے کفر کو وہ سیلِ آب ہے

مرحب تو اس کے سامنے مثلِ حباب ہے

 

تلوار کا دھنی ہے اسی کی ہے ذو الفقار

بھاری ہے دشمنوں پہ یہ وہ شیرِ غاب ہے

 

شیرِ خدا ہے اس کی فتوت ہے بے مثال

جس جنگ میں شریک ہوا فتح یاب ہے

 

زور آوری میں اس کے مقابل نہیں کوئی

رستم ہے زیر پاؤں میں افراسیاب ہے

 

صفدر ہے، مرتضیٰؓ ہے وہ حیدرؓ ہے وہ علیؓ

وہ بوریہ نشیں شہِ گردوں رکاب ہے

 

وہ صلح خو ہے یوں تو مگر ہاں دمِ نبرد

دشمن کے سر پہ برقِ بلا ہے عذاب ہے

 

وہ ہے مزاج دانِ نبی نکتہ رس ہے وہ

وہ بابِ شہرِ علمِ رسالت مآب ہے

 

طاعت میں اتقا میں وہ مردِ بلند نام

وہ آسمانِ زہد پہ مثل آفتاب ہے

 

بینا ہے وہ بصیر ہے صاحب نظر ہے وہ

دانا ہے عقل مند ہے حاضر جواب ہے

 

پُر پیچ مسئلوں کو کیا چٹکیوں میں حل

اہلِ خرد کو جس میں بہت اضطراب ہے

 

پرتو فگن رہا ہے جو خلقِ نبی پاک

ہر اک صفت میں آپ ہی اپنا جواب ہے

 

ہجرت کی شب حضور کے بستر پہ مرتضیٰؓ

اف بے نیازِ خطرۂ جاں محوِ خواب ہے

 

امت پہ اس کی آل کا احساں ہے بے شمار

رطب اللساں کہ جس کا ہر اک شیخ و شاب ہے

 

گدڑی میں اپنی مست ہے فقر و غنا کا شاہ

شاہانہ کرّ و فر سے شدید اجتناب ہے

 

وہ سرفرازِ جامِ شہادت بھی ہے خوشا

مردہ ہے کب وہ زندہ زِ روئے کتاب ہے

 

تو خاکِ کفشِ پائے علیؓ ہے خوشا نظرؔ

کیا کم ہے اس طرح سے بھی گر انتساب ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ