اردوئے معلیٰ

Search

نظارہ کریں کیسے تری جلوہ گری کا

پردہ ابھی حائل ہے مری بے بصری کا

 

اسلوب نیا راس نہیں چارہ گری کا

بیمار پہ عالم ہے وہی بے خبری کا

 

چسکا اسے اُف پڑ ہی گیا در بدری کا

کیا کیجیے انساں کی اس آشفتہ سری کا

 

یہ راہِ محبت ہے یہ کانٹوں سے بھری ہے

مقدور نہیں سب کو مری ہمسفری کا

 

ہمدم نہ اڑا جامۂ اخلاق کی دھجی

دیوانوں کو ہوتا ہے جنوں جامہ دری کا

 

دیکھا ہے کہ کھلتے نہیں دل اہلِ دَوَل کے

بھرتا نہیں مُنہ کاسۂ دریوزہ گری کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ