شمس الرحمٰن فاروقی کا یومِ وفات

آج معروف محقق اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی کا یومِ وفات ہے ۔ (پیدائش 30 ستمبر 1935 – وفات 25 دسمبر 2020) —— شمس الرحمٰن فاروقی سات بھائیوں میں سب سے بڑے اور تیرہ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ پڑھنے لکھنے سے دلچسپی ورثے میں ملی تھی۔ دادا حکیم مولوی محمد اصغر فاروقی […]

محی الدین قادری زور کا یوم پیدائش

آج سید محی الدین قادری زور کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 6 دسمبر 1904ء – وفات: 25 ستمبر 1962ء) —— ڈاکٹر محی الدین قادری زور 28/ رمضان المبارک 1323ھ مطابق 8/ دسمبر 1904 کو حیدرآباد کے محلے شاہ گنج میں پیدا ہوئے .والد کا نام حضرت غلام محمد شاہ قادری زعم اور والدہ کا نام […]

موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے

شام دنیا کے جھمیلوں میں نہ غارت کی جائے تیرے پَیروں سے ہی اُٹھتا نہیں ماتھا میرا کس کو فُرصت کہ ترے ہاتھ پہ بیعت کی جائے !تیری بات اور ہے، اے مجھ کو ستانے والے تُو زمانہ تو نہیں ہے کہ شکایت کی جائے مصحفِ عشق میں آیا ہے کئی بار یہ حکم درد […]

جس شہر میں سحر ہو وہاں شب بسر نہ ہو

ایسا بھی عا شقی میں کوئی در بدر نہ ہو کوشش کے باوجود نہ ہو ، عُمر بھر نہ ہو اللہ کرے کہ مجھ سے ترا غم بسر نہ ہو فارس! اسیرِ حلقۂ دیوار و در نہ ہو وحشت کی پہلی شرط یہی ہے کہ گھر نہ ہو اُس کا یہ حکم ہے مجھے جاتا […]

زیب النسا حمید اللہ کا یومِ پیدائش

آج انگریزی زبان کی ممتاز مصنفہ، شاعرہ، صحافی، پبلشر اور مدیر بیگم زیب النسا حمید اللہ کا یومِ پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 25 دسمبر 1921ء – وفات: 10 ستمبر 2000ء) —— زیب النسا حمید اللہ مشہور انگریزی جریدے مرر کی ایڈیٹر تھیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون ایڈیٹر ہونے کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔ […]

احمد بشیر کا یوم وفات

آج معروف صحافی، دانشور، ادیب اور فلم ساز احمد بشیر کا یوم وفات ہے (پیدائش: 24 مارچ 1922ء – وفات: 25 دسمبر 2004ء) —— اردو کے معروف صحافی، دانشور، ادیب اور فلم ساز احمد بشیر 24 مارچ 1922ء کو ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1944ء […]

عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے

لیکن اب تو سوچتا بھی ہوں وضو کر کے اُسے اُس کا مقصد قتل ہے میرا تو بسم اللہ کرے سرخرو ہو جاؤں گا میں سرخرو کر کے اُسے سرخ انگاروں بھری وہ آگ جب بُجھنے کو تھی رکھ لیا میں نے رگ و پَے میں لہو کر کے اُسے !اتنی آسانی سے مت کھونا […]

کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

جب جب بھی دُکھ اُٹھائے ، مُسرت عطا ہوئی پھر قحط سے مرے ہوئے دفنا دیئے گئے اور چیونٹیوں کے رزق میں برکت عطا ہوئی اُس حکم میں تھی ایسی رعونت کہ پہلی بار ہم بُزدلوں کو کُفر کی ہمت عطا ہوئی میں کیوں نہ فخر اُدھڑی ہوئی کھال پر کروں اک شعر تھا کہ […]