اردوئے معلیٰ

آج سید محی الدین قادری زور کا یوم پیدائش ہے

سید محی الدین قادری زور(پیدائش: 6 دسمبر 1904ء – وفات: 25 ستمبر 1962ء)
——
ڈاکٹر محی الدین قادری زور 28/ رمضان المبارک 1323ھ مطابق 8/ دسمبر 1904 کو حیدرآباد کے محلے شاہ گنج میں پیدا ہوئے .والد کا نام حضرت غلام محمد شاہ قادری زعم اور والدہ کا نام بشیر النساء بیگم تھا ، ڈاکٹر زور ایک شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق ہی نہیں بلکہ عالم ، لسانی تنقیدی نظریہ دان ادبی مورخ ، تاریخ دان اور معاشرتی اصلاح کار بھی تھے۔ بہ حیثیت ادبی مورخ ان کے کارنامے قابل قدر اور گراں بہا ہیں اور یہ کارنامے اردو کی ادبی تاریخ کا ایک بیش بہا سرمایہ ہے۔ ان کے ان کارناموں کو اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ (۱) تاریخ ادب اردو، (۲) دکنی ادب کی تاریخ، (۳) داستان ادب حیدرآباد اور (۴) اردو شہ پارے۔حیدر آباد، بھارت میں ان کی ولادت ھوئی۔ ابتدئی تعلیم مدرسہ دارلعلوم سٹی اسکول میں ھوئی۔جب وہ چار سال کے ہوئے انھیں کایستھ پاٹھ شالہ بارہ گلی میں شریک کرایا گیا .یہاں چوتھی جماعت تک تعلیم پائی۔۔ اس کے بعد مدرسہ مفید الانام میں داخلہ لیا اور مڈل کا امتحان کامیاب کیا.بعد ازاں مدرسہ نظامیہ سے مولوی کے نصاب کی تکمیل کی . ساتھ ہی ساتھ گوپال رتنم کے کوچنگ اسکول سے خانگی طور پر میٹرک کے امتحان کی تیاری کی اور 1921 میں میٹرک کامیاب کیا.پھر سٹی کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کی پھر1927 میں عثمانیہ کالج سے ” لسانی سائنس” میں ایم ۔اے کی سند حاصل کی۔ ان کی ادبی اور علمی زہانت کو دیکھتے ھوئے حیدرآباد کے فرمانروا نے انھیں وظیفہ دے کر 1929 میں لندن یونیورسٹی پی ایچ ڈی کرنے کے لیے بھجوایا۔ جہان انھوں نے ” ” اردو زبان کے آغاز و ارتقاء” پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا۔ یہاں انھیں بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ماہر لسانیات کی سرپرستی نصیب ہوئی۔ اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز لندن کے پروفیسر آر۔ایل۔ٹرنر اور ہندوستانی زبان کے ماہر گراہم بیلی نے زور صاحب کی علمی اور تحقیقی فطانت کو دیکھتے ھوئے۔ان کی تربیت کی اور مفید مشورے دئیے۔ جس کی سبب اردو کی ادبی اور لسانی تنقید اور تحقیق میں نئے اسلوب اور مناجیہات کےدروازے کھلے۔
——
یہ بھی پڑھیں : حامد حسن قادری کا یوم پیدائش
——
1930 میں پیرس (فرانس) سے ان کی کتاب Phonetics شائع ہوئی۔ یہ کتاب اگرچہ بنیادی طور پر اردو صوتیات (Phonetics) کا توضیح و تجزیہ پیش کرتی ہے، لیکن اس میں اردو کے آغاز و ارتقا سے بھی بحث کی گئی ہے۔ لسانیاتی موضوع پریہ ان کی سب سے اہم کتاب ہے۔ گیان چند جین 1923-2007) (نے اپنے ایک مضمون میں اس کتاب کو لسانیات میں ان کا ’’اصل کارنامہ‘‘ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ڈاکٹر زور کو لسانیات کی تاریخ میں کوئی مقام دیا جائے گا تو اسی کی بدولت‘‘۔ (- گیان چند جین، ’’ڈاکٹر زور کی لسانی خدمات‘‘، مشمولہ ’لسانی مطالعے‘ از گیان چند جین (نئی دہلی : ترقیِ ارد و بورڈ،1973، ص 265۔}
لسانی موضوع پر اور اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق ان کی دوسری کتاب ’ہندستانی لسانیات‘ ہے جو ان کے یورپ سے ہندوستان واپس آنے کے بعد 1932 میں حیدر آباد سے شائع ہوئی۔ ان کتابوں کے علاوہ انھوں نے اردو لسانیات کے حوالے سے کئی مضامین بھی قلم بند کیے ہیں جن میں ’’اردو اور پنجابی‘‘ (مطبوعہ رسالہ ’نقوش‘ ]ادبِ عالیہ نمبر [، لاہور، بابت جولائی 1960) ،اور ’’اردو کی ابتدا‘‘ (مطبوعہ مجلّہ ’اردوئے معلی‘ ]لسانیات نمبر[، شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی، بابت 1962) خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان مضامین کے مطالعے سے زور کے نظریۂ آغازِ زبانِ اردو کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
محی الدین قادری زور بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اردو دہلی میں نہیں، بلکہ پنجاب میںپیدا ہوتی ہے اور جب مسلمان پنجاب میں تقریباً دو سو برس تک قیام کرنے کے بعد دہلی پہنچتے ہیں تووہ اپنی زبان کو بھی پنجاب سے دہلی لے جاتے ہیں۔ مشہور ماہرِ لسانیات سنیتی کمار چٹرجی 1890-1977) (بھی شیرانی اور زور کے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے اپنی کتاب Indo-Aryan and Hindi (1942)میں لکھتے ہیں:
“It is likely that Punjab Muhammadans who came to Delhi as followers of the Turki and Persian conquerers had … brought their dialect to Delhi.” (23)
محی الدین قادری زور کے نظریے کی رو سے ’’نئے ہند آریائی دور‘‘ میں جس زمانے میں اردو پنجاب میں پیدا ہوئی، اس وقت پنجاب کی اور نواحِ دہلی کی زبانوں میں بہت کم فرق تھا، چنانچہ اس نظریے کی تائید سنیتی کمار چٹرجی کے یہاں بھی ملتی ہے جو یہ لکھتے ہیں:
“The language that they (Muslims) first adopted was naturally that current in the Punjab… It is even likely that an almost identical speech was current in central and western United Provinces and eastern Punjab.”(24)
واضح رہے کہ یہ نظریات محی الدین قادری زور اپنی کتاب ’ہندستانی لسانیات‘ میں 1932 میں پیش کرچکے تھے جن کی تائید چٹرجی نے اپنی متذکرہ کتاب میں دس سال بعد 1942) میں) کی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : محی الدین نواب کا یوم وفات
——
اردو کی دکنی شاخ کے بارے میں محی الدین قادری زور کا یہ نظریہ ہے کہ یہ وہی زبان ہے جو پنجاب میں پیدا ہونے کے بعد دہلی آئی، پھر دہلی سے کھڑی بولی کے اثر سے بچتی ہوئی دکن پہنچی- ان کے خیال کے مطابق ’’اس نے ]دکنی اردو نے[بہت سی وہ خصوصیتیں محفوظ رکھیں جو آج پنجابی سے مشابہ ہیں۔ یہی در اصل وہ راز ہے جو شمال اور جنوب کی اردو میں آج تک ا ختلاف کا باعث ہے۔‘‘( سید محی الدین قادری زور ، محولۂ بالا کتاب ، ص 97}۔اس بیان کے چند صفحات کے بعد وہ دکنی اور پنجابی کی مشابہت کا پھر سے ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’شمالی ہندوستانی=]شمالی اردو[پر کھڑی بولی کا ایسا گہرا اثر مرتسم ہوا کہ اس کی بہت سی ابتدائی یا اصلی خصوصیتیں مفقود ہوگئیں اور جو کچھ باقی رہیں وہ مسخ شدہ حالت میں ہیں۔ اس کے برخلاف دکنی میں قدیم سے قدیم شکلیں ا ور خصوصیتیں بالکل محفوظ ہیں، جن کی بنا پر وہ جدید پنجابی کے بہت کچھ مشابہ ہے۔ قادری صاحب کے لسانی تصورات حافظ محمود خاں شیرانی {1880-1946) سے زیادہ قریب ہیں۔
سید محی الدین قادری زور پہلے اردو اسکالر ہیں جنھوں نے آج سے پون صدی سے بھی قبل یورپ کی دانش گاہوں میں لسانیات کی اعلیٰ تربیت حاصل کی تھی اور تحقیقی مقالہ لکھ کر لندن یونیورسٹی سے 1929 میں لسانیات میں پی ایچ۔ ڈی(Ph.D).کی سند حاصل کی تھی۔ اس کے بعد وہ ڈی۔ لٹ(D. Lit.)کی ڈگری کے لیے فرانس چلے گئے تھے اور پیرس یونیورسٹی میں مشہور فرانسیسی ماہرِ لسانیات ژول بلاک 1880-1953) ( کی رہنمائی میں “Gujrati Form of Hindustani”(ہندستانی کی گجراتی شکل) پر تحقیقی مقالہ لکھنا شروع کردیا تھا جو بہ وجوہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
پیرس میں اپنے قیام کے دوران میں محی الدین قادری زور وہاں کی سوربون یونیورسٹی سے بھی کچھ عرصے تک منسلک رہے تھے۔ وہاں انھوں نے تجرباتی صوتیات (Experimental Phonetics)کی تربیت حاصل کی تھی، اور مختلف صوتی آلوں کی مدد سے اردو صوتیات سے متعلق عملی کام انجام دیا تھا۔ اس کام کے چند نمونوں کے عکس انھوں نے اپنی کتاب Hindustani Phonetics (1930)میں شامل کردیے ہیں۔اس سے پہلے لندن میں اپنے قیام کے دوران میں بھی انھوں نے اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز میں صوتیات کی تربیت حاصل کی ۔
1930 میں انھوں نے فرانس میں لسانی تحقیق پر خصوصی تعلیم حاصل کی۔ پھر وہ ہندوستاں واپس آگئے۔ہندوستان واپس آکر زرو صاحب چندر گھاٹ کالج کے پرنسپل مقرر ھوئے۔ اس کے بعد جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو کے صدر نشین مقرر ھوئے۔۔ وہ اپنی موت تک کشمیر کی سری نگر یونیورسٹی میں اردو ، فارسی کے مطالعوں کے شعبے مین درس و تدویس کے فرائص انجام دیتے رھے۔ انھوں نے اکسٹھ (61) کتابیں تصنیف کیں اور ہندوستان کے تعلیم اداروں میں اردو رائج کرنےمیں بڑی خدمات سر انجام دی۔ وہ اردو میں ماہر لسانیات کے طور پر معروف ہیں۔ انھوں نے لسانی تحقیق، معاشرتی روداد نگاری، عالمانہ تنقید کے علاوہ افسانے لکھے اور شاعری بھی کی۔ ان کی شاعری "حب ترنگ”۔۔ "گلزرا ابرہیم” کے نام سے چھپ چکی ھے ۔ زور صاحب نے اردو کی ترویج کے لیے "ادبیات اردو ” (المعرف ایوان اردو) کی بھی بنیار رکھی۔ جس کا مقصد قدیم اردو کے اور علمی ورثے اور پرانے متنوں کو نیا افق فراھم کرنا تھا۔ انھوں نے ابوالکلام آزاد تحقیقی انسیٹوٹ بھی قائم کیا اور ادبی اور علمی جریدہ ” سب رس” جاری کیا۔ یہ رسالہ اب بھی جاری ھوتا ھے۔ کراچی سے بھی شاہد حمید مرحوم بھی ایک عرصے تک شمالی ناظم آباد سے ” سب رس” نکالتے رھے۔ محی الدیں قادری زور کے علمی اور ادبی کارناموں پر خلیق انجم نے کتاب بھی لکھی ھے۔ ’’دکن کو بجاطور پر فخر حاصل ہے کہ اردو نظم و نثر دونوں کی باقاعدہ ابتدا اس سرزمین سے ہوئی۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اردو کا سب سے پہلا ماہر لسانیات بھی خاک دکن سے اٹھا۔‘‘
(ڈاکٹر خلیق انجم ’’زور ایک ماہر لسانیات‘‘ مشمولہ سب رس کراچی، زور نمبر جنوری ۱۹۷۹ء، ص: ۸۹) ۔
——
یہ بھی پڑھیں : محمد ایوب قادری کا یوم پیدائش
——
ان کی سب سے معروف کتاب "ہندوستانی لسانیات” ھے۔ اس کے علارہ انھوں نے ” ہندوستانی لسانیات” کے نام سے انگریزی میں بھی ایک کتاب لکھی تھی۔ہندوستانی فونیٹکس : یہ کتاب عملی لسانیات میں اہم مقام رکھتی ہے۔ ہندوستانی لسانیات سے متعلق انگریزی میں اپنی نوعیت کی یہ اولین کتاب ہے اس میں زبان کا صوتیاتی تجزیہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے اسی بنا پر
’’زور صاحب کو صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی جملہ زبانوں میں علم زبان کے قافلے کے سالاروں میں شمار کیا۔‘‘
(ڈاکٹر ضیا الدین انصاری، ’’زور صاحب کی تصانیف کا تعارف‘‘ مشمولہ محی الدین قادری زور مرتب خلیق انجم، ص: ۱۷۴، سنہ اشاعت ۱۹۸۹ء)
اس سے بہ حیثیت ماہر لسانیات ڈاکٹر زور کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔اردو تنقید کے ابتدائی دور میں ایک معتبر نام ہمیں ڈاکٹر زور کا ملتا ہے۔ جن کی تنقید نگاری پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر زور بنیادی طور پر سائنٹفک دبستان تنقید سے وابستہ تھے۔ڈاکٹر زورؔ ایک مایہ ناز محقق، تجربہ کار مدون تھے۔ ان کی تحقیقی اور تدوینی کام کی وجہ سے کئی شاعر گوشۂ گم نامی سے نکل کر شہرت کے بام عروج پر پہنچے۔ تحقیق ایک صبرآزما اور مشکل کام ہے اس میں جذبے کی لطافت، ذہنی یکسوئی خیال کی ہم آہنگی کا ہونا نہایت لازمی ہے، تحقیق اپنے موضوع کے ساتھ انصاف چاہتی ہے۔ وہ مواد کو سلیقے سے اکٹھا کرنا، اس کی صحیح جانچ پڑتال، چھان بین، تقابل، رد و قدح جیسے مراحل میں باریک بینی و حساسیت چاہتی ہے۔ یہ تمام اوصاف ڈاکٹر زور میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ اسی لیے ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ اپنے مضمون ’’محقق اعظم‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’اگر میں کسی ادبی ادارے سے منسلک ہوتا تو ڈاکٹر موصوف کو محقق اعظم کا خطاب پیش کرتا اس لیے کہ ان میں وہ تمام خوبیاں جمع ہیں جو تحقیق، تدلیل، تنقید کے کار اہم کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے (۱) کھوج پڑتال (۲) مواد کی ڈھونڈ بھال کی فطرتِ اہلیت (۳) وسیع و عمیق مطالعہ اور اساتذہ کی صحبت (۴) موضوع سے ہمدردی اور موافقت (۵) فکر غائر کی عادت (۶) شک اور ایمان سے سمجھوتا (۷) تنوع ا ور تعمق کی لگن (۸)تحلیل و تسنیق کا گر (۹) بے تعصبی و بے غلوی (۱۰) حوصلہ، صبر، خوداعتمادی، انکساری (۱۱) ٹھیک جچی تلی مختصر بات کہنے کی کاوش اور تاکید و تکرار سے حذر (۱۲)حقیقت عشق اور دارگیری کا جنوں۔‘‘
(ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ ’’محقق اعظم‘‘ مشمولہ سب رس کراچی زور نمبر، ص: ۹۲،۹۳، جلد ۲ دسمبر جنوری ۷۹۔۱۹۷۸ء، مدیر خواجہ حمید الدین شاہد)
ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ نے اپنے مضمون میں ڈاکٹر زورؔ کی ان تمام خوبیوں کا ذکر کیا ہے جو ایک اچھے محقق کے لیے ضروری ہیں۔ ان اوصاف کو دیکھ کر موہن سنگھ دیوانہ انھیں ’’محقق اعظم‘‘ قرار دینے پر مجبور ہیں۔ ان کا ’’محقق اعظم‘‘ کے عنوان سے مضمون کا لکھنا ہی ڈاکٹر زورؔ کے تحقیقی کارناموں اور اس کی قدر و منزلت کا ثبوت دینا ہے۔ محمد ابرار الباقی اپنے مضمون میں ان کی کتاب ‘ روح تنقید کے متعلق لکھتے ہیں” ’’روح تنقید‘‘ کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں فن تنقید کے ارتقا، ادب اور تنقید کے باہمی تعلق اور فن تنقید کے اصول و مبادیات سے بحث کی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں دنیا کے مختلف ممالک مثلاً یونان، روما، فرانس اور انگلستان میں تنقید کے ارتقا پر روشنی ڈالی گئی ہے۔”
ڈاکٹر زورؔ نے تنقید کی تعریف، ادب میں اس کی اہمیت و ضرورت اور دوسرے اہم مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کے تنقیدی خیالات کا اندازہ ذیلی اقتباس سے کیا جاسکتا ہے:
——
یہ بھی پڑھیں : محی الدین نواب کا یوم پیدائش
——
’’تنقید میں نہ صرف تقریظی پہلو ہوتا ہے بلکہ تخلیقی بھی اس کا کام نہ صرف برائی کی خدمت کرنا ہے بلکہ اچھائیوں کی بھی صحیح طور پر ترجمانی کر کے ان میں ترقی دینا۔‘‘
(ڈاکٹر زورؔ ’’روح تنقید‘‘، ص: ۷ سنہ اشاعت ۱۹۲۵ء، طبع اول)
ڈاکٹر عبادت بریلوی ان کے تنقیدی دبستان کے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر زور نے تنقید کے لیے جن اصولوں کو ضروری قرار دیا ہے وہ بڑی حد تک سائنٹفک ہیں۔ اگر ان کو سامنے رکھ کر تنقید کی جائے تو زیر نظر تصنیف کے تمام پہلو پڑھنے والے کے سامنے آسکتے ہیں۔ ان کی عملی تنقید میں یہ خصوصیت سب سے زیادہ نمایاں ہے۔‘‘
(ڈاکٹر عبادت بریلوی ’’اردو تنقید کا ارتقا‘‘، ص: ۳۲۰، سنہ اشاعت ۱۹۹۵ء
تین شاعر : اس کتاب میں ڈاکٹر زور نے میر تقی میر، میر انیس اور ہوریس اسمتھ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔
جواہر سخن : مولوی مبین عباسی چریاکوٹی نے اردو شاعری کا انتخاب ’’جواہر سخن‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں میں مرتب کیا تھا۔ ڈاکٹر زورؔ نے اس پر ایک طویل تبصرہ لکھا اور اسے ’’جواہر سخن‘’ کے نام سے ہی کتابی شکل دے دی گئی۔ زور صاحب نے ’’جواہر سخن‘‘ پر تنقیدی نظر ڈالی ہے اور اس کے فروگزاشتوں کی نشان دہی کی ہے۔ دیا۔سید حرمت الاکرام لکھتے ہیں:
’’یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ ان کی دوسری تصنیفات و تالیفات سے قطع نظر اگر حیدرآباد اور باقی ماندہ پورے ہندوستان کے مخطوطات ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھ دیے جائیں تو اس میں حیدرآباد سبقت لے جائے گا۔ جس کا سہرا ڈاکٹر زورؔ کی ذات واحد کے سر ہے۔‘‘
(سید حرمت الاکرام ’’ڈاکٹر زورؔ زورؔ شخصی اور ادبی زندگی‘‘ مشمولہ سب رس کراچی، زورؔ نمبر، ص: ۱۰۴، جلد ۲، دسمبر جنوری ۷۹۔۱۹۷۸ء، مدیر خواجہ حمید الدین شاہد
اس کے علاوہ ان کے دو مضامین ’’اردو اور پنجابی‘‘ (مطبوعہ نقوش لاہور ۱۹۵۳ء) اور اردو کی ابتدا (مطبوعہ اردوئے معلی لسانیات نمبر جلد سوم ۱۹۶۴ء) ان کا ایک پر مغز مقالہ ’’ہندوستان کی گجراتی شاخ‘‘ پر ہے جس کو انھوں نے ڈاکٹر جے۔ پلوک کی نگرانی میں قلم بند کیا تھا۔ لسانیات میں اپنی خدمات کی بنا پر ڈاکٹر زور کو اردو کا سب سے پہلا باقاعدہ ماہر لسانیات تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں، ” طلسمات خیال”، شاعر گولکنڈہ” ” گولکنڈہ، کے ہیرے”، دکنی ادب کی تحریک”، "کلیات قطب شاہ”، ” حیات میر محمدمومن” ، داستان ادب حیدر آبا د”، ” تذکرہ مخطوطات اردو” (دو جلدیں)، ” طالب موہنی”، معنی شکن” (اس کتاب میں مغرب میں 1970 اٹھنے والی فکری نظریہ "ردتشکیل” کو زور صاحب نے ساٹھ (60) سال پہلےپیش کردیاتھا) انھوں نے کلیات محمد قلی قطب شاہ کے تدویں بھی کی۔ان کے مختصر افسانوں کے مجموعے ’’سیر گولکنڈہ ۱۹۳۶ء‘‘ اور ’’گولکنڈہ کے ہیرے ۱۹۳۷ء‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ’’سیر گولکنڈہ‘‘ میں سولہ افسانے اور گولکنڈہ کے ہیرے میں چھ افسانے ہیں جن میں طلسم تقدیر بھی شامل ہے۔ ان افسانوں کے مجموعوں کے علاوہ ۱۹۵۲ء میں شہر حیدرآباد پر ایک اور کتاب ’’حیدرآباد فرخندہ بنیاد‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے دوسرے حصے ’’روایات‘‘ میں انھوں نے اپنے انیس (۱۹) افسانوں کو شامل کیا جو ’’سیر گولکنڈہ‘‘ اور ’’گولکنڈہ کے ہیرے‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ ڈاکٹر زورؔ کے جملہ تئیس (۲۳) افسانے ہمارے سامنے موجود ہیں۔ڈاکٹر زور کی ابتدائی شاعری کے بارے میں پروفیسر سیدہ جعفر لکھتی ہیں:
’’ان کے اشعار میں نوجوانی کی امنگ بھی ہے اور محبت کرنے کا حوصلہ بھی۔ ان میں انفرادی اور داخلی جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔ زبان میں روانی اور سلاست ہے لیکن گہرائی رفعت تخیل اور ندرت فکر کے عناصر نظر نہیں آتے۔ ڈاکٹر زورؔ کی ابتدائی نظمیں ہلکی پھلکی اور عشقیہ ہیں یہ نظمیں عنفوان شباب کے لطیف اور معصوم جذبات کی آئینہ دار ہیں۔‘‘
(پروفیسر سیدہ جعفر ’’ڈاکٹر زور ‘‘ نئی دہلی، ساہتیہ اکادمی سنہ اشاعت ۱۹۹۰ء، ص: ۱۵۶
——
یہ بھی پڑھیں : حامد حسن قادری کا یوم وفات
——
15/ نومبر 1932 کو نواب رفعت یار جنگ کی صاحب زادی تہنیت النساء بیگم سے ڈاکٹر محی الدین قادری زور کی شادی ہوئی . "تہنیت منزل ” ان کے مکان تھاجو اردو کی باقاعدہ پہلی صاحب دیوان شاعرہ تھیں۔ ان کے تین دیوانوں میں ۔۔”صبر شکر”، ۔۔ سب سے زیادہ مشہور ھوا۔ ان کی چار (4) صاحب زادیاں اور پانچ (5) صاحب زادگان تھے۔ زور صاحب کی ایک بیٹی زہرہ کا انتقال ستمبر 1962 میں ھوا اور وہ خاینار شریف میں رزق خاک ھوئی۔ محی الدین قادری زور صاحب 1931 تک ادارہ ادبیات اردو میں اپنے آبائی مکان "تھنات منزل”، حیدرآباد مین مقیم رھے۔ ان کی ایک بیٹی تہذیب زہرہ عربی کی عالمہ ہیں۔ 960ا میں وہ عثمانیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی رھی۔ ان کی شادی 7مئی 1961 کو ڈاکٹر یحیی علی احمد فاروقی سے ھوئی جو زرو صاحب کے دوست پروفیسر لطیف احمد فاروقی ے صاحبزادے تھے۔ بھر وہ 1964 میں پاکستان چلے گئے تھے۔ ان کی دوسری بیٹی توقیر زہرہ نے پاکستاں میں ایک فوجی میجر عبد القیوم سے شادی کی۔ ان کی تیسری بیٹی آرکیٹیکچر ہیں وہ اب برطانوی شہری ہیں۔ زرو صاحب کے تمام صاحبزداگان حیدراباد، ہندوستان میں مقیم رھے۔ سید محی الدین قادری زور صاحب کا انتقال سری نگر، کشمیر میں 25 ستمبر 1962 کو ھوا۔
——
منتخب کلام
——
زندگی سانس لیتی رہے گی یونہی
زندہ دل ہنستے ہنستے گذر جائیں گے
موت سے بھی مریں گے نہیں زورؔ ہم
زندگی میں جو کچھ کام کر جائیں گے
——
اپنی تقدیر بنتی ہے تدبیر سے
اب نہ دشمن کا ڈھونڈو کرم ساتھیو
منحصر ہے یہ دنیا جو اسباب پر
سب ہی اسباب ہوں گے بہم ساتھیو
——
کچھ ایسے لوگ ابھی تک چمن میں ہیں شاید
فریب خوردہ خزاں میں نہ خوش بہار میں ہیں
——
دل ہو بیدار تو انسان سمجھ سکتا ہے
قوتیں اور بھی ہیں دولت و ثروت کے سوا
——
ذوقِ پاکیزہ سے ہر چیز ہے پرُلطف و حسیں
یہ نہ حاصل ہو تو بیکار ہے دنیا ہو کہ دیں
——
سوچتا ہوں کہ کہیں تم تو نہیں آ نکلے
ایک ہلچل سی مچی رہتی ہے جب دل کے قریب
اپنی کوتاہیٔ دانش کا گلہ کیا کیجیے
بارہا ہم بھی گئے تھے درِ زنداں کے قریب
——
فردوس آب و گل کے نظاروں کا شوق ہے
چشموں کا رنگ و بو کا بہاروں کا شوق ہے
انسانیت کے رِستے ہوئے زخم چھوڑ کر
دانشوروں کو چاند ستاروں کا شوق ہے
ہستی کی تلخیاں جو گوارا نہ ہو سکیں
زندوں سے ہے نفور ، مزاروں کا شوق ہے
——
ہم اپنی گرمیِ سوزِ دروں سے چیخ اٹھے
خوشا کہ مستی فیضِ جنوں سے چیخ اٹھے
یہ ناز طبع بلند بہ زعم خود نگہی
زمانہ سازی دنیائے دوں سے چیخ آٹھے
——
پھر ذکرِ رونقِ شبِ ماہتاب آ ہی گیا
سامانِ وحشتِ دلِ بیتاب آ ہی گیا
——
موسم وہی فضا وہی کہسار بھی وہی
اے کاش مل سکے نگہِ یار بھی وہی
——
ہو گا یونہی فلک پہ صدا ماہ ضوفشاں
مل جائے میرا چاند ہے وہ چاندنی کہاں
——
ہنوز ایسے بھی انسان روزگار میں ہیں
کبھی سحر کے کبھی شب کے انتظار میں ہیں
یہ راہ سوچ سمجھ کر ہی اختیار کریں
وہ سوئے دار چلے ہیں جو کوئے یار میں ہیں
کچھ ایسے لوگ ابھی تک چمن میں ہیں شاید
فریب خوردہ خزاں میں نہ خوش بہار میں ہیں
بہ فیضِ سوزِ دروں اور بطرزِ اہلِ جنوں
وہی ہے منزلِ لیلیٰ کہ جس دیار میں ہیں
——
شعری انتخاب از ہندوستانی ادب کے معمار : ڈاکٹر زور
مصنفہ : سیدہ جعفر ، شائع شدہ : 1984 ء ، باب : شاعری
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات