نہیں ہے اپنی تباہی کا کچھ ملال مجھے
تو کیا دکھائی نہیں دیتا اپنا حال مجھے ؟ مجھے اُداسی کا سرطان تھا سو ڈرتے تھے لوگ سو آپ کرنا پڑی اپنی دیکھ بھال مجھے تُو ایک نخلِ جواں ، تیرا بوڑھا مالی مَیں ترے عروج پہ بخشا گیا زوال مجھے سخی! میں کسی اور در پہ جا نہیں سکتا ترے ہی در کا […]