اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر ناصر شہزاد کا یوم وفات ہے

ناصر شہزاد(پیدائش: 21 دسمبر، 1937ء – وفات: 22 دسمبر، 2007ء)
——
ناصر شہزاد پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر تھے۔
ناصر شہزاد 21 دسمبر 1937ء کو شیخو ضلع اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔ وہ غزل کے ساتھ ساتھ دوہے اور گیت نگاری میں بھی اختصاص رکھتے تھے۔
ان کے شعری مجموعے چاندنی کی پتیاں اور بن باس کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے جبکہ مجید امجد کی شاعری اور شخصیت پر لکھی ہوئی ان کی کتاب کون دیس گئیو کے نام سے شائع ہوئی۔
ناصر شہزاد 22 دسمبر 2007ء کو ضلع اوکاڑہ میں وفات پا گئے۔
تصانیف:
بن باس (شاعری)
چاندنی کی پتیاں (شاعری)
کون دیس گئیو (تنقید)
——
ناصر شہزاد کی شعری لفظیات
——
لفظ اُس وقت تک بامعنی اور فکری اعتبار سے متحرک نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ انسانی فکر کو منسلک نہ کر دیا جائے۔ لفظوں کی یہی معنوی ترتیب ہی کسی تحریر کے بامعنی ہونے کا اعلامیہ بن سکتی ہے۔یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ خیال ایک مسلسل اور انسانی حوالے سے ہمہ گیر حقیقت رکھتا ہے،یہ انسان کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ارتقاپذیر ہے،یہ قدیمی اور دائمی ہے جب کہ لفظ اور بیان کے پیمانے ہر عہد،ہر دور اور ہر علاقے کے حوالے سے نہ صرف مختلف ہوتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکلیں تبدیل کرتے رہتے ہیں تاہم لفظ اور خیال ایک دُوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں۔
”ہر خیال اپنا ماحول،اپنی فضا اور اپنے الفاظ ساتھ لے کر آتا ہے اور اگر اِس میں الفاظ کی معمولی سی تبدیلی بھی کی جائے تو خیال کے ماحول اور فضا دونوں کو دھچکا لگے گا،،
——
یہ بھی پڑھیں : نامور مصور, افسانہ نگار عبدالرحمٰن چغتائی کا یوم وفات
——
زبان اور الفاظ پر قُدرت ایک الگ مسئلہ ہے لیکن جب کوئی شاعر،ادیب یاقلم کار ادب کی مجموعی معنیاتی فضا میں کمی محسوس کرتا ہے تو اس کا ذہن نِت نئی معنویت تلاشنے اور نئے نئے لفظ ٹٹولنے میں سرگرداں ہوتا ہے۔بلاشُبہ نئی معنویت کی افزائش و نگہداشت اور اس کے صحیح تر ابلاغ کے لئے ایک جہانِ نو کی ضرورت ہوتی ہے جس کی تعمیر وتشکیل میں ہر شاعر یا ادیب کے ہاں مخصوص تہذیبی،ثقافتی یا سماجی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔یہی عوامل فکری صُورت میں جب لفظ سے انسلاک کرتے ہیں تو لفظ کی معنویت سامنے آتی ہے۔ہر بڑا شاعر فکری ومعنیاتی فضا کے مطابق نئی زباں تخلیق کرتا ہے نئے نئے لسانی پیرایے تلاشتا ہے۔بعض اوقات اس کی جدّت ِطبع روایتی وکلاسیکی الفاظ میں بھی ایسا نیارنگ بھر دیتی ہے کہ وُہ نئی معنیاتی شان تخلیق کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
لسانی تشکیلات کے علمبردار بھی اسی روئیے کے قائل تھے کہ لفظ کے پُرانے مفہوم کے ساتھ اَب سفر کرنا مُشکل ہے۔اس لیے عصری تقاضوں کے مطابق اسے نئے مفہوم کا لباس پہنانا بہت ضروری ہے۔ ناصر شہزاد بھی اسی خیال کے حامی تھے اور اُنہوں نے اپنی شاعری میں مُنفردلسانی تجربے بھی کئے۔ لیکن ان تجربات کی نوعیت،لسانی تشکیلات کے شدّت پسند گروہ سے مُختلف تھی۔اس گروہ نے ایک رُجحان اورتحریک کو فروغ دینے کے لئے لفظ پر ہر طرح کا تجربہ کیا جِس سے شاعری میں کئی کھُردرے، کڑوے کسیلے،غیرمُہذب،ناشائستہ الفاظ بھی داخل کئے گئے کیونکہ یہ لوگ اپنی جاندار تحریک کے تحت ایک نئے رُجحان کے نفاذکے داعی تھے۔اس لیے وُہ اپنے مؤقف کی وضاحت کے لئے ہر طرح کے الفاط کو زبان کاحصہ بنا رہے تھے۔
ناصرشہزاد اس حق میں تھے کہ لفظ کو نئے معنی سے آشنا ہوناچاہئیے لیکن وہ زبان کے بنیادی سانچے کو توڑنے کی بجائے اسے نئے الفاظ سے بدلنے کے داعی تھے۔اس لیے انہوں نے لسانی اجتہاد کیا جو کسی تحریک کے پیروکار کے طور پر نہیں بلکہ اپنی فکری وفنی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے تھا۔وہ اپنے لئے زبان کا مخصوص پیرایہ چاہتے تھے جِس میں صدیوں پُرانے تہذ یبی خیالات کو بھی نئے معنی اور مفہوم کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔اِس خواہش کا اظہار اُن کے کئی اشعار میں بھی ملتا ہے۔
——
کرے مُسترد جو پُرانے وثیقے
غزل ایسا معجز بیاں مانگتی ہے
بن باس،ص۱۸۲
——
چُن چُن کے کُند قافیے لفظوں کی کھیپ سے
مت بھرشٹ کر غزل کے نیئن نقش ریپ سے
بن باس،ص۵۵۴
——
ناصر شہزاد کسی بھی تحریک یا گروہ سے بے نیاز رہے اور آغاز سے ہی اپنی شاعری کو ایک مخصوص لسانی رنگ میں ڈھال دیا اور شعری زباں وبیان میں اپنی انفرادیت کا باقاعدہ اعتراف کیا ۔اِن لسانی تجربات میں اُنہوں نے زباں کے بنیادی ضابطوں سے تجاوز ہرگز نہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں لفظ،نئے مفاہیم کے ساتھ تہذیب اور شائستگی سے آئے ہیں۔ جِسے اُنہوں نے شعری افکار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے پُوری پُوری ریاضت کی ہے۔اپنی بات کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں کہ کشٹ اُس سمے کرتار ہوتا ہے جب کرتا میں کانتا آجائے اور شردھا میں شانتا۔جب سادھ سپھل ہو، جب شبد کے حصول کا شوق گیان اور نروان کے استھان کو سنبھالے اور شعر کے معانی کو ابلاغ اور اسکی کہانی کو سہاگ ملے اپنے اسی نقطہ نظر کی مزید وضاحت یوں کی ہے کہ لفظ کوئی بھی بُرا نہیں ہوتا،صرف اس کو باندھنے کا عمل بُرا ہے۔
یعنی دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ لفظ کو اسکے صحیح مفہوم میں باندھاگیاہے یا نہیں۔اکثر شعراء پیچیدہ اور ثقیل الفاظ کے استعمال کو فنکاری کی علامت سمجھنے لگتے ہیں اور خیال نہیں رکھتے کہ یہ الفاظ شعر اور غزل کے مجموعی مزاج سے ہم آہنگ بھی ہیں یا نہیں۔کیونکہ محض لفظی انفرادیت رفعتِ فن کی علامت نہیں ہوتی جب تک وُہ فکری وفنی تقاضوں کو ساتھ لے کر نہ چلے۔
ناصر شہزاد نے الفاظ کے رنگا رنگ تجربات میں لطیف اور نازک مضامین کو خُوش رنگ الفاظ کا جامہ پہنایا ہے کیونکہ یہ دلکش نظارے برسوں کے قُدرتی فطرتی مُشاہدے کے سبب اُن کے باطن اور رُوح کی گہرائیوں میں محفوظ تھے جنہوں نے اُن کی شاعری کو ایک میٹھے اور دل آویز اُسلوب کے رُوپ میں ڈھال دیااور صحیح فنکار جب ایک نیا اُسلوب بناتا ہے تو وُہ عجز بیاں کے سلسلے میں کبھی مُوردِالزام نہیں ہو گا۔ اُسے اپنے فن اور اُسلوب اظہارپر لا محالہ قُدرت ہو گی۔ اس اچھُوتے اُسلوب میں اُن کی شعری لفظیات کا جائزہ بہت اہمیت کا حامل ہے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ لفظ اُن کے یہاں کس کس انداز سے اور کن کن ذرائع سے جلوہ گر ہوتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر منور رانا کا یوم پیدائش
——
ناصر شہزاد کا مُستقل قیام ساہیوال اور اوکاڑہ میں اُن کے آبائی گاؤں شیخُو شریف میں رہا۔ وہ پرائمری پاس کر کے ساہیوال پہنچے اور ۱۹۹۶ء میں پھر شیخو شریف مستقل اقامت اختیار کی۔ اور پھر ۲۰۰۷ء تک یہیں قیام رہا یعنی اُن کی شاعری کا بنیادی منظر نامہ انہی شہروں میں ترتیب پاتا ہے یہاں کی فضائیں، ماحول،مناظر، موسم، ثقافت اور مزاج ان کی شاعری کا بنیادی تخلیقی حوالہ بنتا ہے بڑے شہروں کی ہنگامہ خیززندگی کی بجائے اُن کے یہاں یہ دو نیم شہری اور نیم دیہاتی مزاج کے حامل شہران کو شعری تناظرعطاکرتے ہیں پھر اِن شہروں کے مقامی اثرات اورمزاج کو بھی ان کی شاعری مِیں دخل رہاہے۔
اوکاڑہ(شیخُو شریف) ناصر شہزاد کی جنم بھُومی تھااور پھر اُنہوں نے برملااظہارکیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنی شعری اساس کو اپنے گاؤں کی سادہ اور پگڈنڈیوں سرسوں اور کھیت کھلیانوں سے سجی سنوری زندگی کو بنالیا جسکی بدولت اُن کے کلام میں اس علاقے کی فضا، مزاج،موسم،رسوم، ثقافت،کھیت کھلیان،مزار،ممٹیاں غرض سبھی کُچھ نظر آجاتا ہے۔انہی تناظرات میں وُہ اپنے لئے جو لفظیات چنتے ہیں اُن میں اس علاقے کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ان الفاظ کے مطالعہ سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ان کاخمیر اسی دھرتی سے اُٹھاہے۔یہ الفاظ خالصتاًپنجاب کے دیہاتوں کی یاد دلاتے ہیں اور آگے چل کر یہی مقامی ثقافت اور لفظوں کا مزاج ان کے شعری آہنگ کی تشکیل میں مدد گارثابت ہوتا ہے۔
ناصر شہزاد کی شاعری میں مقامی ثقافت کے حامل الفاظ کی بحث سے قبل اُردو زبان میں مُختلف زبانوں کے مدغم ہونے کے عمل سے آشنائی بھی ضروری ہے۔اُردو ایک مخلُوط زبان ہے۔ اسکی تاریخ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اِس میں ہمیشہ مُختلف زبانوں کے الفاظ داخل ہوتے رہے اور ان الفاظ نے وقت کے ساتھ اس زبان کے نظام میں مُستقل جگہ بنا لی۔ چنانچہ آج اُردو زبان کی جو تصویر ہمیں نظر آتی ہے۔ اس میں مُختلف زبانوں کے اِن الفاظ کے بے شمار رنگ دکھائی دیتے ہیں اور اگر اِن الفاظ کے مُختلف رنگوں کو اس تصویر سے نکال دیا جائے تو یہ تصویر ہی باقی نہیں رہے گی۔اسکی اصل میں کوئی شک وشُبہ نہیں کہ ہندی بھاشا ہے۔ اس بولی کے افعال پر اسکی بُنیاد قائم ہے۔
——
رنگ سے ڈھنگ تک مُختلف میں
مجھ کو اُردو سمجھ لو کہ بھاشا
بن باس،ص۱۳۴
——
برّصغیر میں تاریخی تبدیلیوں کے نتیجے میں پڑنے والے اثرات کی قبولیت میں اُردو نے ہندی اور بھاشا کے ساتھ ساتھ اپنے ارتقائی سفر میں فارسی،عربی، تُرکی اور انگریزی کے بے شمار الفاظ کو بھی اپنے اندر داخل کیا۔ ان کی مخصوص شکلوں کو اپنے مخصوص سانچے میں ڈھال دیا۔ اُردو کا مزاج یہ ہے کہ وُہ اجنبی اور نامانُوس الفاظ کو اپنے رنگ میں اس طرح رنگتی ہے کہ وُہ دُوسری زبان کے الفاظ معلوم نہیں ہوتے بلکہ اُردو کے الفاظ بن جاتے ہیں۔اس کا استعمال،اس کا تلفّظ،اس کا رنگ وآہنگ، اسکے قواعد،غرض ہر چیز اُردو کے سانچے میں ڈھلی نظر آتی ہے . اس اعتبار سے یہ زبان ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔اُردو زبان نے اگر ایک طرف علاقائی زبانوں سے مقامی آب ورنگ اپنا کر اپنی زمین سے اپنا رشتہ اُستوار رکھا تو دوسری طرف فارسی، ہندی، ترکی اور انگریزی زبانوں سے استفادہ کر کے اپنے دامن کو رنگا رنگ تلمیحات اور علامات سے بھر لیا۔
فرسُودہ الفاظ اور موضوعات کی توڑپھوڑاور شاعری میں نئے الفاظ و موضوعات کے داخلے کا رُجحان ہر تخلیق کار کا شیوہ رہا ہے۔اجتماعی کلچر اور تہذیب کی آمیزش کی بدولت دیگر زبانوں کے اثرات کا در آنابھی ایک فطری مسئلہ ہے کیونکہ کسی بھی دَور میں قومی کلچراور تہذیب کا کوئی ایسا تصّور ممکن نہیں جس میں دیگر قوموں کی تہذیب اور کلچر کی آمیزش نہ ہو۔ ناصر شہزاد نے برّصغیر کی اجتماعی تہذیب میں جھانکتے ہُوئے ہندی،کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں سے بھی اثرات قبول کئے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اُردو شاعری میں ہندی،عربی،فارسی اور پنجابی الفاظ کے علاوہ انگریزی کے متعدد مقبول عام الفاظ کو ناصر شہزاد نے نگینے بنا کر اُردو غزل کا ذائقہ بدل دیا ہے ۔اُنہوں نے اپنی علامتیں اور استعارے مُنتخب کرتے وقت کسی لسانی،جغرافیائی یا تہذیبی تفریق کو روا نہیں رکھااور اُن کا استعمال اس سلیقے سے کیا کہ وُہ اِس زبان میں اجنبی معلوم نہیں ہوتے۔ بقول ڈاکٹرخورشید رضوی :
”اُردو، پنجابی،ہندی،عربی،فارسی اورانگریزی سب زبانوں کے الفاظ اسکے ہاں تخلیق کی آنچ سے پگھل کر یوُں یکجان ہوجاتے ہیں کہ کسی مغایرت کااحساس تک نہیں ہوتا،،
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ماہر لسانیات ڈاکٹر شوکت سبزواری کا یوم وفات
——
یوں مقامی رنگ وتہذیب کے حامل شعری تناظر کی بدولت پنجاب کی ثقافت کا اُن کی شاعری میں کھُلم کھلا اظہار ہے جسکی بدولت پنجابی زبان کے سینکڑوں الفاظ اُن کی شاعری میں جگہ پاگئے ہیں۔ اُنہوں نے اُردو غزل کا دامن پنجابی زبان کے ایسے بنیادی الفاظ سے مالا مال کیا ہے جسکی نظیر اس سے پہلے اُردوغزل میں کم کم ہی ملتی ہے۔
——
آری صنفِ غزل تُجھے سونپیں
یہ انگوٹھی،یہ نتھ،یہ گانی دیکھ
بن باس،ص۲۳۰
——
پنجابی ثقافت کے سارے رنگ اُن کے ہاں رقص کرتے نظر آتے ہیں جِس میں گاؤں کی فصلیں، سبزیاں، پھل، خوشبو، کھیت، کھلیان، درخت، چرند،پرند،پہاڑ،دریا،ندیاں،جھرنے،موسم،بانسری کی سُریلی دُھن غرضیکہ شاید ہی کوئی ایسا منظر ہو جو اُن کی آنکھ سے اوجھل رہا ہو۔یہ سارے منظراُن کے ہاں جیتے جاگتے اور بولتے دکھائی دیتے ہیں اور ا نہی مناظر کے بیان نے مقامی زبان کے الفاظ کی بدولت اُن کی شاعری کے کینوس کو وسیع کیا ہے۔چند مثالیں ُملاحظہ کیجیے ——
رستے میں کھنڈر،سرکنڈے،بارانی زمینیں
آگے وُہ نگر،ارض علاقہ سبھی نہری
رُت سمادھ سما جوں کی پلٹ آئی پڑے پھُوار
بجلی کے بجے سنکھ،پکے آم دُسہری
بن باس،ص۲۰۸
——
رنگ لٹاتی،رس برساتی، آئی بسنت
آئی بسنت،اٹھلاتی،گاتی آئی بسنت
باغ میں مست پرندے چہکے
سونی چھتوں پر آنچل لہکے
دھیان کی بے آباد سبھا میں
پریت کی دُھندلی محل سرا میں
سپنوں کے گھونگھٹ سرکاتی آئی بسنت
آئی بسنت اٹھلاتی گاتی
بن باس،ص۴۷۹
——
ہندومُسلم تہذیب کے امتزاج میں جہاں موسیقی، مصوری، فنِ تعمیر میں مُشترک منطقے دکھائی دیتے ہیں وہاں ادب میں بھی اسکے اثرات لامحالہ ہیں۔ بحیثیت مجموعی ہندوستان میں مُسلمانوں کی آمد ہندی تہذیب کے ٹھہرے پانی میں گرنے والا دُوسرا بڑا دھارا تھا جس نے ہندی تہذیب و فکر کو نئے تحرک سے آشنا کیا۔ اس ارتباط کے نتیجے میں ایک نئی تہذ یب پروان چڑھی جسے ہنداسلامی تہذیب کہا جاتا ہے یہ تہذیب خالصتاًاسلامی ہے نہ ہندی بلکہ اس میں ہر دو اقوام کے مُشترک اجزاء ہیں جو باہم اس قدر شِیروشکر ہو چکے ہیں کہ انہیں علیحدہ علیحدہ کرنا نا ممکن ہے۔ ناصر شہزاد نے اسی مُشترکہ تہذیبی اختلاط کو اپنی شعری اساس بنایا ہے۔بچپن میں ہندوووستوں کے ساتھ،مندروں اورمٹھوں میں جاکر شبد کیرتن چُننے اور اُن کی سُریلی صداؤں کو اپنی سوچ کی مہکیلی کتھاؤں سے گُزارنے اور گیت سے رُوحانی اُنس نے ناصر شہزاد کو ہندی تہذیب وزبان کی طرف راغب کیا۔ جسکے باعث دیگر زبانوں سے لسانی اشتراک کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ کے استعمال کا رُجحان اُن کی شاعری میں فراوانی کے ساتھ در آیا۔ ہندی الفاظ کی کثرت نے اُن کی شاعری کو ملتا بخشی ہے ۔ اُنہوں نے غزل کی روایت کو ہندی لفظیات کے ساتھ ساتھ ہندی شاعری کی فضاسے بھی مکمل طور پر آشنا کیا اور اسے ہندی گیتوں کے سانچے میں ڈھالنے کامُنفرد تجربہ بھی کیا۔ اُوپر سے ہندی الفاظ کی اصوات ہی ایسی ہیں کہ ان کے استعمال سے غزل میں گیت کا آہنگ خُودبخود پیدا ہو جاتا ہے۔ گیت کا یہی آہنگ ناصر شہزاد کو قدیم رومانی روایات کی طرف لے جاتا ہے۔ بقول نظیر صدیقی
”ان کے ذہن میں ہندی شاعری کی روما نی روایات اس حد تک رچ بس گئی ہیں کہ ان کی شاعری اُردو رسم الخط میں لکھی ہُوئی ہندی شاعری معلوم ہوتی ہے،،
ناصر شہزاد کاکمال یہ ہے کہ اُنہوں نے قدیم ہندی تلمیحات کو نئے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو اُن کی جدّت پسندی کا مُنہ بولتا ثبُوت ہے۔ان کی انفردیت یہ ہے کہ اُنہوں نے غزل میں ہندی لہجہ، ہندی بحریں اور ہندی الفاظ نہایت سلیقے سے استعمال کئے۔اس تجربے کے ساتھ اُنہوں نے کماحقہ، انصاف کیا اور اسے شعریت کے درجے سے گرنے بھی نہیں دیا ۔اُردو غزل میں ہندی الفاظ کا شامل ہونا ایک مُثبت عمل ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُردو غزل بغیر چھان پھٹک کے ہندی کا ہر لفظ قبول کر لے۔جن لوگوں نے محض فیشن کے طور پر کسی خاص مقصد کی حصول یابی کے لئے ایسا کیا وُہ غزل میں کوئی حُسن و خوبی پیدا نہیں کر سکے۔ غزل بنیادی طور پر ایک خُوش آہنگ اور نرم رو صنف ہے ایسے الفاظ جو سخت اور ناہموار ہیں.
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ماہر لسانیات، نقاد اور محقق ڈاکٹر شوکت سبزواری کا یوم پیدائش
——
وُہ اس میں نہیں سما سکتے۔ ہندی بیاں اور لہجے کے دل فریب تجربات سے ناصر شہزاد کی پُوری کی پُوری غزلیں اور گیت مزین ہیں۔ مثالیں مُلاحظہ کیجیے :
——
گھنیرے ناریل ندی کنارے
سجن سجنی سے ملنے کو پد ھارے
گھنیرے ناریل ندی کنارے
سجیلی شام کے ماتھے پہ بندیا
چرائی جس نے گن وانوں کی نندیا
پرندے چہچا ئیں ڈالیوں پر
جگیں جگنوں منڈیروں جالیوں پر
پھلا کرپرکہے پنجرے میں مینا
چندرونتی نے بھوش سُرخ پہنا
کھلی سرسوں، کھلے اُلجھے اشارے
سجن سجنی سے ملنے کو پد ھارے
گھنیرے ناریل ندی کنارے
بن باس،ص۴۰۹
——
سیدھے سادے جذبات کو اُنہوں نے ہندی زبان کے الفاظ اورآہنگ کے سہارے بیان کرنے میں امتیاز حاصل کیا ہے ۔ ہندی زبان کیورتارے کے اِن تجربات کے ذریعے ناصر شہزاد نے صدیوں پرانی روایات و حکایات کو جب جدید طرز میں پیش کیاتو اُردو کے دامن میں الفاظ و خیال کے حوالے سے وُسعت پیدا ہُوئی۔ ہندی کے قدیم الفاظ کو نئے مفہوم عطا کر کے اُن کی اجنبیت کو ختم کیا۔ بقول ناصر شہزاد :
”میں نے اُردو زبان کو گھٹایا نہیں بلکہ آگے بڑھایا ہے۔ ہندی الفاظ کے نئے مفاہیم اور معانی کے ساتھ مَیں نے لفظ کو نامانُوس نہیں رہنے دیابلکہ اسی زبان کا ایک حصہ بنادیا ہے،،
آگے چل کر وُہ اپنے اس دعوٰی میں مزیدطاقت پیدا کرتے ہیں،لکھتے ہیں :
”مُجھے یہ ادراک ضرور ہے کہ مَیں نے پورے چالیس سال تک ہندی ڈکشن میں کام کیا ہے میں نے غزل کے خمیر کو گیت کی جاگیر میں تعمیر کیا ہے اور اس کا بدل آپ کو ہندوپاک دونوں ملکوں کے شعراء میں نہیں ملے گا۔یہ شاعرانہ تعّلی نہیں بلکہ میرے سادھ کی فنی تجلّی ہے،،
اُن کی شاعری میں ہندی ڈکشن سے برّصغیر کی صدیوں پُرانی تہذیب کے حالات و واقعات،محبت کے دل فریب تجربے اور اجتماعی تہذیب و ثقافت کے کئی نقوش اُجاگر ہو گئے ہیں۔
——
تُجھ سے بچھڑ کے میں نے،سو بار پران تیاگے
کھویا ہُوں ریگ زاروں،ڈوبا ہُوں آب ناؤں
بن باس،ص۴۵۶
——
نت میت….ریت….موہ،محبت میں فرض ہے
مت من سے مجُھ کوتیاگ یہ بنتی، یہ عرض ہے۔
سوداکیاتھادل کا، تیرے دل سے اور اب
بن تیرے پران تجنا، مرے سرپہ قرض ہے
بن باس، ص۴۶۲
——
ناصر شہزاد نے اس کثرت سے ہندی الفاظ استعمال کئے ہیں کہ ان کا نام آتے ہی ذہن ہندی الفاظ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے انہیں ہندی زبان پر اسقدرقُدرت حاصل ہے کہ جس طرح چاہتے ہیں ہندی الفاظ کو استعمال کر لیتے ہیں وُہ شاعری کی وجدانی اور جمالیاتی اقدار سے پُوری طرح واقف ہیں اور خوش قسمتی سے وُہ ہندی زبان وادب سے بھی نہ صرف واقف ہیں بلکہ اسکی رُوح کو بھی پہچانتے ہیں اُن کے خیال میں ہندوستانی معاشرت کی صحیح عکاسی صرف ہندی زبان وادب میں موجود ہے اور اُردو ادب کو ایران عرب کے پنجے سے آزاد کرانے اور اس میں ملُکی اور دیسی رنگ وآہنگ پیداکرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہندی روایتوں سے دل کھول کر استفادہ کیا جائے۔کیونکہ یہ مُعاشرت اورتہذیب ہماری مجموعی تہذیب کا حصہ ہے اسلئے اُن کی شاعری ہندی آب و رنگ سے آراستہ ہے اورہندی اوراُردو کے ملاپ کا بہترین نمونہ ہے۔
نئی غزل میں جب الفاظ کو کسی خانے میں تقسیم کئے بغیر استعمال کرنے کا رُجحان عام ہُوا تو اسکی وجہ سے انگریزی کے بہت سارے الفاظ بھی اُردو غزل میں شامل ہو گئے اس کا جوازیہ بھی تھا کہ جو زبان عام طور پربولی جاتی ہے اورجو ہمارے لئے ترسیل کا کام کرتی ہے اسے کس طرح شعر وادب میں نظر انداز کیا جاسکتا ہے انگریز نے برّصغیر پر تقریباًایک صدی کے لگ بھگ حکومت کی ہے طرزِ بودوباش، رہن سہن اور روز مرہ کی بول چال کے حوالے سے انگریزی زبان و تہذیب نے ہمیں اندرونی اور بیرونی طور پرمُتاثر کیا ہے۔ اس تغیر وتبدل کا اثر تخلیق کار پر زیادہ پڑتا ہے۔
اُردو زبان نے اگر عرب اور ایرانی فاتحین کے اثرات کو قبول کیا ہے تو یہ انگریزی زبان سے بھی ضرور استفادہ کرے گی کیونکہ انگریز بھی یہاں فاتح کی حیثیت سے رہے ہیں لیکن انگریزی کے ہر طرح کے الفاظ کو برداشت کرنے کی گنجائش اس میں نہیں۔ اُردو زبان کا اعجازہے کہ یہ دوسری زبانوں کے ہر اچھے لفظ کواپنا لیتی ہے اور برُے کورد کر دیتی ہے ۔ناصرشہزاد کے ہاں بھی انگریزی الفاظ کا استعمال موجود ہے لیکن اپنی شاعری میں انگریزی الفاظ کے استعمال کی بابت اُن کا یہ دعوٰی محلِ نظر ہے کہ :
”مجُھے یہ دعوٰی ہے کہ انگریزی الفاظ کو اُردو غزل میں سب سے پہلے میں نے رقم طراز کیا،،
اُردو شاعری میں انگریزی الفاظ کے استعمال کا سلسلہ تو اکبرؔ اور حسرتؔ وغیرہ سے شروع ہو چکا تھا ۔یہ الگ بات کہ ناصر شہزاد نے بھی انگریزی الفاظ کا استعمال بہت مہارت اور عمدگی سے کیا ہے انگریزی کے بعض مروّج لفظ بھی ان کے الفاظ کے مرقع میں دمکنے لگے ہیں ۔ دیگر زبانوں کے الفاظ کا بر محل استعمال فنی چابکدستی اور مہارت کا متقاضی ہوتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کس زباں سے کیجیے پیارے نبی کا تذکرہ
——
اُردو زبان میں دیگر زبانوں کے استعمال کے وقت زبان و الفاظ کے استعمال کی موجودہ صورتِ حال اور عصری تقاضوں کو بھی مدّ نظر رکھنا پڑتا ہے ہمارے ہاں انگریزی کے لاتعداد الفاظ ایسے بھی ہیں جوروز مرّہ کی بول چال کا حصہ ہیں اور جنکے مُتبادل الفاظ اُردو میں موجود ہیں مگر ان کی جگہ مُتبادل اُردو کے لفظ آئیں تو بات قدرے اُلجھ جاتی ہے اور مفہوم کی سمجھ میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ ناصرشہزاد نے اپنی شاعری میں بھی انگریزی کے کئی ایسے لفظ برتے ہیں جو روزمّرہ میں اپنے متبادل اُردو کے الفاظ کی نسبت موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کیجئے :
——
جگوں جنموں کی بچھڑی سانوری کو
کلب، دفتر،ملیں،مسلیں،مشینیں
سیاست،ہوٹلنگ،اخبار،قہوہ
الکھ ودیا کا،دانش کا ستارا
رمق وسکی کی، ایل ایس ڈی کی شکتی
پیاپے پروان بھگتی
سڑک، ڈیزل، بسیں ادھ موئے منظر
ترنگیں تیاگ کی،شردھا کی رنگت
بن باس،ص ۳۶۸
——
ڈاکٹر ارشدمحمود ناشاد نے انگریزی لفظیات کے استعمال کو جہاں ساٹھ کی دہائی کی غزل میں شامل ایک نمایاں رُجحان قرار دیا ہے وہاں اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ جدّت کے شوق میں اکثر شعراء نے اپنی غزلیات میں انگریزی الفاظ کا غیر فنکارانہ اور غیر ہنرمندانہ استعمال کیا جس سے نہ صرف غزل کی رمزیت اور ایمائیت کو نقصان پہنچا بلکہ یہ غزلیات آہنگ کی دلکشی کے باوجود تاثیر سے خالی ہیں اُنہوں نے ناصرشہزاد کی غزلیات سے بھی کُچھ شعری حوالے دیے ہیں .ڈاکٹر معین الدین عقیل کے خیال میں بھی ناصرشہزاد کے ہاں انگریزی الفاظ کے استعمال سے آہنگ کے حُسن کے باوجود، غزل کی جاذبیت متاثر ہوئی ہے لیکن ان دونوں حضرات نے اس ضمن میں ناصرشہزاد کے جو شعر درج کئے ہیں وُہ اُن کے پہلے شعری مجموعہ ”چاندنی کی پیتاں“ سے ماخوذ ہیں۔جو اُن کے ابتدائی دور کا کلام ہے۔بعد ازاں انہوں نے انگریزی الفاظ کو بہت عُمدگی سے استعمال کر کے نہ صرف اُردو کا حصہ بنایا ہے۔ بلکہ اسے اپنی غزل کے امتیازی وصف کا درجہ دیا ہے۔اس ضمن میں ناصرعباس نیرّ لکھتے ہیں :
”ناصرشہزاد کی غزل کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ اُنہوں نے مقامی الفاظ کے علاوہ انگریزی کے وُہ الفاظ بھی برتے جو اب ہماری بول چال کا حصہ ہیں۔یہ الفاظ اتنے فطری طریق سے آئے ہیں اور انہیں اس مہارت اور کامیابی سے لایا گیا ہے کہ یہ غزل میں اجنبی لگتے ہیں ناگوار“
ناصرشہزاد کی غزل میں کئی اشعار ایسے بھی آئے ہیں جن کے ایک ایک شعر میں کئی زبانوں کے الفاظ ایک خاص ترتیب سے استعمال ہُوئے ہیں۔لیکن اُن کا استعمال ایسا بر محل ہے کہ شعر کا حُسن متاثر نہیں ہوتا بلکہ ان الفاظ کی آمیزش سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مُختلف رنگوں کے نگینوں کو ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
——
سن کرملن کا موہنا سندیس فون پر
دل ریجھ ریجھ سا گیا اُس نرم ٹون پر
بن باس، ص ۵۶۷
——
ڈائل وُہ موبائل پہ کرے ہے مرے نمبر
میسج سے وُہ بھیجے کئی سندیس ,سنیور
کپڑے پہ ہوگلکاری , گھنی گوٹہ کناری
پر یتم کی ہوں پیاری،مُجھے پہناؤ وہ تر یور
بن باس، ص۱۲۵
——
ان مثالوں سے واضح ہے کہ ناصرشہزاد نے جہاں مقامی پنجابی ثقافت اور صدیوں پُرانی تہذیب کے مزاج اور فضا کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے وہاں لفظیات کا چناؤ بھی ایسا ہی ہے جو شاعری کی فضا کے عین مطابق ہے ناصرشہزاد کے مقامی اور ارضی شعور کو سمیٹنے کے لئے اِن لفظیات کو کھولنا اور سمیٹنا ضروری ہے۔روایتی لفظیات اور اسکے تلازمات اُن کی شاعری کو سمجھنے کیلئے ناکافی ہیں۔یہ شعری روایت اپنی الگ شناخت کی حامل ہے اسے روایتی لفظیات و تلازمات کے ساتھ سمجھنے سے بات نہ صرف مبہم ہو جائے گی بلکہ تناظر ہی سے ہٹ جائے گی۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
ناصرشہزاد کی شاعری کی لفظیات کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اُن کی شاعری پنجابی، عربی، انگریزی، ہندی اورمقامی زبانوں کا امتزاج ہے۔شعری روایت کی تقلید میں ان کے یہاں روایتی لفظ اور تراکیب بھی ملتی ہیں مگر رفتہ رفتہ اُن کی شاعری کا رُخ ہندی لفظیات کی طرف زیادہ ہو گیا۔ چُونکہ اُن کے یہاں نئے عہد کی نئی جمالیات کی جھلک ملتی ہے اسلئے اس جمالیات کی تشکیل میں اُنہوں نے مقامی زبانوں اور ہندی سے بھرپُور فائدہ اُٹھایا اور یہی اثراُن کی شاعری کے مناظر میں رنگ بھرتا ہے اُن کی شاعری میں قدیم ہندی روایات اورکُہنہ تہذیبی نقشوں سے قلبی وابستگی کی بدولت گیت کا رنگ، گیت کے ساتھ ساتھ غزل میں بھی غالب صُورت میں آیا ہے کیونکہ ہندی زبان کے کثرتِ استعمال سے لامحالہ گیت کا آہنگ لا شعوری طور پر شاعر کے شعری عمل کا حصہ بن جاتا ہے مُختلف تہذیبی زبانوں کا دل فریب استعمال ہی ناصرشہزاد کی شاعری کا امتیازی وصف ہے۔
——
شبدوں کی شکتی بھگتی
میرے اندر سوئی ہے
بن باس،ص۶۴۵
——
مرے ہاتھوں میں حرفوں کی حرارت
مری مٹھی میں لفظوں کے خزینے
پکارتی رہی بنسی،ص۱۳۷
——
نمونہ کلام
——
تلے تیغ کے وہ عبادتیں تری شان کی وہ شہادتیں
وہ حکایتیں وہ روایتیں ترے سارے گھر پہ سلام ہے
——
تو شرافتوں کا مقام ہے تو صداقتوں کا دوام ہے
جہاں فرق شاہ و گدا نہیں ترے دین کا وہ نظام ہے
——
جنہیں ترے نام کی چاہ ہے یہ زمین ان کی گواہ ہے
وہیں کربلا کا وہ دشت ہے وہیں قصر کوفہ و شام ہے
——
تجھ سے ملی نگاہ تو دیکھا کہ درمیاں
چاندی کے آبشار تھے سونے کی راہ تھی
——
جب کہ تجھ بن نہیں موجود کوئی
اپنے ہونے کا یقیں کیسے کروں
——
پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یوں ہی بچھڑ گیا
پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یوں ہی کٹ گئے
——
دیکھا قد گناہ پہ جب اس کو ملتفت
بڑھ کر حد نگاہ لگی اس کو ڈھانپنے
——
لوگ تھے کیا جو ازلوں سے مشتاق ہوئے
دشت میں سر کٹوائے سینہ چاک ہوئے
کیسا کنبہ تھا وہ جس کے بچے بھی
پیر کے خاک اور خون کا دریا پاک ہوئے
خرمے کے اک پیڑ نے دیکھی ساری کتھا
مشک پھٹی جب جسم سے بازو عاق ہوئے
انگوروں کے جھنڈ میں میٹھا جھرنا تو
تجھ پر مٹنے والے خوش ادراک ہوئے
اول دن جتنے وعدے تھے قرض لئے
آخر دن کربل میں سب بے باک ہوئے
کتنی چیخیں صدیوں کی تحویل میں گم
کتنے خیمے آگ میں جل کر خاک ہوئے
آپ نے زہر بجھی تیغیں کھائیں اور آپ
تاریخوں کی سطروں میں تریاق ہوئے
کانوں سے آویزے اترے حق ٹھہرا
نیزوں پر سر حاکم کی املاک ہوئے
ماتم کی مذموم گھڑی جب آ پہنچی
کچھ آنسو آئینے کچھ اوراق ہوئے
——
اور انت میں جدائی بڑی کرب‌ ناک ہے
تجھ مجھ میں یوں تو روز ازل سے وفاق ہے
نیچے کہیں بدن میں مٹی خواہشوں کے خواب
اوپر درازیٔ غم دوراں کی خاک ہے
سکھیاں سجیلی بھور نین درپنا کی اور
آنند پور پور عجب انہماک ہے
قلعوں کے یہ حصار نہیں قربتوں کے دیار
ان برجیوں کے پار ہوائے فراق ہے
نیارے پیا کے روپ کہیں گن کہیں سروپ
متھرا کا بادشاہ کہیں بھینسوں کا چاک ہے
یہ راجدھانیاں یہاں بے بس کہانیاں
کنگن میں ہاتھ ہے کہیں نتھلی میں ناک ہے
میٹھا مٹھاس سے ہے وہ اجلا کپاس سے
باتوں میں اشتراک ملن میں تپاک ہے
مٹی کی سب سفارتیں بندھن بشارتیں
سبزہ ندی کناروں مزاروں پہ آک ہے
حق گوئی ہم رکاب دریدہ بدن کے باب
کربل کتاب صدق سیاق و سباق ہے
——
نس نس میں نشہ پیار کا معمور ہوا ہے
دل تیرے ملن کے لیے مجبور ہوا ہے
وادی میں برس کر ابھی برسات چھٹی ہے
چڑیوں کی چہک سے سمے مسرور ہوا ہے
آنکھوں کی گزر گاہ سے در آیا ہے دل میں
تو میرے تصرف سے بہت دور ہوا ہے
سو بار ترا میرا فسانہ ہوا یکجا
سو بار مرے سنگ تو مذکور ہوا ہے
تو رنگ مہک روپ میں آیا تجھے پایا
اظہار ترے پیار کا بھرپور ہوا ہے
——
دل پہ تھی ثبت جو تحریر مٹائی نہ گئی
کس کی تصویر تھی تصویر بھلائی نہ گئی
آ کے اس بن میں ملے پھر نہ کبھی دو پریمی
گھاس پگڈنڈیوں سے جھیل سے کائی نہ گئی
پیار کی آنچ سے جل اٹھا کنول کانت بدن
اس سے صورت مری نینوں میں چھپائی نہ گئی
مجھ میں رچ بس کے بھی تو مجھ سے الگ خود سے الگ
تیرے جیون کی امٹ روپ اکائی نہ گئی
ٹوٹے کتبوں کے سوا مل نہ سکا کچھ بھی مگر
اس مٹے شہر کے ٹیلوں کی کھدائی نہ گئی
رات بھر جل پہ گریں جلتے ستاروں کی لویں
مجھ سے چادر کوئی ندی پہ بچھائی نہ گئی
اس کے درشن سے ملی مجھ کو خود اپنی پہچان
شکل اک روح تلک صورت آئینہ گئی
——
تحریر :
ناصر محمود ۔ پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ اردو اور مشرقی زبانیں، یونیورسٹی آف سرگودھا۔
ڈاکٹر سید عامر سہیل ۔ صدر شعبہ اردو اور مشرقی زبانیں، یونیورسٹی آف سرگودھا۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات