اردوئے معلیٰ

آج نامور شاعر ساغر نظامی کا یوم پیدائش ہے

ساغر نظامی(پیدائش: 21 دسمبر 1905ء- وفات: 27 فروری 1984ء)
——
ساغر نظامی اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق بھارت سے تھا۔ انہوں نے کثیر تعداد میں نظمیں لکھیں۔ انہوں نثر میں بھی کافی کام کیا۔ ان کو حکومت ہند کی جانب سے بھارت کا اہم ایوارڈ پدم بھوشن عطا کیا گیا
ساغر نظامی کی پیدائش بروز جمعرات 21 دسمبر 1905ء کو محلہ بلائے قلعہ علی گڑھ میں ڈاکٹر احمد یار خان کے گھر ہوئی۔ والدین نے اپنے بیٹے کا نام صمد یار خان رکھا تھا۔ صمد یار خان اپنا تخلص ساغر استعمال کرتے تھے اور سلسلہ نظامی میں بیعت تھے اس لیے صمد یار خان نے اپنے لیے نام ساغر نظامی پسند کر لیا تھا۔ ساغر نظامی کے والد محکمہ صحت یو پی میں ملازم تھے۔ والدہ کا نام صغری بیگم تھا جو مولوی حسن رضا خان کی بیٹی تھی۔
——
تعلیم و تربیت
——
ساغر نظامی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن علی گڑھ سے حاصل کی۔ آپ نے عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانیں پرائیوٹ طور پر سیکھی۔ ساغر 1921ء میں ایم اے او کالج علی گڑھ میں نہم کلاس کے طالب علم تھے جب گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون شروع ہو گئی۔ اس تحریک میں ایک شک سرکاری اسکولوں کا بائیکاٹ تھا جس کی وجہ آپ کی تعلیم ادھوری رہے گئی۔ ساغر نظامی نے طب کی تعلیم حاصل کرنے لیے بھی داخلہ لیا تھا۔
——
شاعری
——
ساغر نظامی کو بچپن ہی سے شعر کہنے کا شوق تھا۔ ساغر کو نو سال کی عمر میں یہ شوق لگا اور تیرہ سال کی عمر میں شعر کہنے بھی لگے تھے۔ ساغر طبعاً ایک ادیب اور مزاجاً ایک شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں بھی شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے دادا اور چچا اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے ماموں عابد رضا خان جمال صابری اور زاہد رضا خان علی گڑھی بھی شاعر تھے۔ گویا ساغر کو شاعری کا شوق ورثہ میں ملا تھا۔ ان کے ادبی شعور کی نشو و نما سیماب اکبر آبادی کے حلقہ تربیت میں ہوئی۔ اس کا اثر ساغر کی شاعری اور شعور دونوں پر ہوا۔ شیریں آواز، خوش کلامی اور پرکشش شخصیت نے بہت جلد ساغر کی شاعری کو ہندوستان گیر شہرت عطا کر دی۔ ساغر نظامی سیماب اکبرآبادی کے محبوب شاگرد تھے۔ سیماب اکبرآبادی کے شاگردوں میں سے ساغر نے ہی سب سے زیادہ شہرت پائی۔ 1924ء میں مولانا احسان اللہ خان تاجور نجیب آبادی (ف جنوری 1951) نے لاہور کے مشہور ناشر کتب عطرجند کپور اینڈ سنز کے مالی تعاون سے لاہور میں ایک ادارئے اردو مرکز کی بنیاد رکھی۔ اسکیم یہ تھی کہ اردو ادب کے مطبوعہ سرمائے سے مخلتف عنوانوں کے تحت مجموعے تیار کیے جائیں۔ نیز نئے نئے عنوانوں پر شعرا سے نظمیں اور نثری مضامین لکھوا کے کتابیں شائع کی جائیں۔ پنجاب کا محمکہ تعلیم اور اس کے اصحاب اس اسکیم کی پشت پر تھے۔ مولانا تاجور نے ملک بھرکے مشہور ادیبوں کو اس ادارے میں جمع کر لیا تا کہ وہ اس منصوبے کی تکمیل میں ہاتھ بٹھائیں۔ جو اصحاب ان کی دعوت پر لاہور پہنچے ان میں سیماب اکبرآبادی بھی تھے۔ یوں ساغر نظامی بھی سیماب اکبرآبادی کے ساتھ لاہور گئے۔ یہ ساغر کی کا میابی اور عروج کا دور تھا۔ یہیں لاہور میں ان کے اپنے استاد سیماب اکبرآبادی سے اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا۔ جو بالآخر وسیع ہوتے ہوئے علحیدگی اور مخالفت تک پہنچ گیا۔ اردو مرکز کا کام مکمل ہوجانے کے بعد سیماب اکبرآبادی 1926ء میں آگرے واپس تشریف لے گئے۔ لیکن ساغر ستمبر 1926ء میں وطن علی گڑھ واپس چلے گئے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ساغر صدیقی کا یوم وفات
——
اخبار اور ماہنامے
——
ساغر نظامی نے 1922ء میں ماہنامہ پیمانہ جاری کیا جس نے اردو کے حلقوں میں خاصی شہرت حاصل کی۔
1926ء میں ساغر نے ماہنامہ مستقبل جاری کیا۔ یہ سیاسی تھا اس وجہ سے ایک سال بعد بند ہو گیا۔
1927ء میں دہلی سے دوبارہ پیمانہ جاری کیا۔ چونکہ یہ ماہنامہ سیماب اکبرآبادی کی مالکیت تھا اس وجہ سے یہ چھ ماہ بعد بند ہو گیا کیونکہ ساغر اور سیماب میں اختلافات مخالفت تک پہنچ چکے تھے۔
1928ء میں ساغر نظامی نے علی گڑھ سے نیم مزاحی ہفتہ وار اخبار علی گڑھ پنچ جاری کیا۔ یہ تجربہ کامیاب نہ رہا اور جلد اس کو بند کر دیا۔
1929ء میں ساغر نے ہفتہ وار استقلال شائع کرنا شروع کیا۔ اگرچہ اس میں ادبی اور ثقافتی مضمون بھی چھپتے تھے لیکن سیاسی ہونے کی وجہ یہ بھی بند کروا دیا گیا۔
ساغر نظامی نے 1934 میں میرٹھ سے ماہنامہ ایشیا کا اجرا کیا۔ یہ تجربہ کامیاب رہا لیکن حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا جس وجہ سے ساغر میرٹھ سے بمبئی چلے گئے جس وجہ یہ ماہنامہ بھی کچھ عرصہ میں بند ہو گیا۔
——
سیاست
——
1929ء میں ساغر نظامی کے تعلقات کانگریس کے اکابرین سے استوار ہو گئے تھے۔ سب سے پہلے ان کے ڈاکٹر سید محمود سے تعلقات مراسم قائم ہوئے۔ موصوف بہار کے سرکردہ راہنما تھے۔ وہ بہار کے مشہور کانگریسی راہنما مولانا مظہر الحق کے داماد بھی تھے۔ ڈاکٹر کی وساطت سے ساغر کی کانگریسی اکابرین سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان اکابرین میں پنڈت جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلام اور مسز سروجنی نائیڈو خاص طور پر شامل تھے۔ 1929ء اور 1930ء میں ساغر نظامی نے کانگریسی تحریکوں میں عملی طور پر حصہ لیا۔ جلسوں میں نظمیں پڑھتے تھے۔ یوں متواتر سے مشق سے کلام میں پختگی بھی پیدا ہو گئی۔ اس میں تنوع بھی پیدا ہوا اور ملک کے دور دراز کے علاقوں سے واقفیت بھی ہوئی۔
——
شادی خانہ آبادی
——
ساغر نظامی کی شادی مراد آباد کے مولوی عبد الہدی خان کی بیٹی ذکیہ سلطانہ کے ساتھ 28 مارچ 1943ء کو ہوئی۔ ذکیہ سلطانہ مولوی صاحب کی دوسری اولاد تھی۔ ذکیہ سلطانہ ساغر نظامی کے ماہنامہ ایشیا میں لکھتی تھی۔ اس وجہ سے دونوں آپس میں واقف تھے۔ یہ شادی ذکیہ سلطانہ کی وجہ سے ہوئی ورنہ ان کے گھر والے ساغر کے پیشہ سے راضی نہیں تھے۔
——
فلم انڈسٹری
——
1943ء میں ساغر نظامی نے بمبئی میں فلم انڈسٹری کے لیے نظم و نثر کی شکل میں لکھا۔ ان دنوں فلم ساز احمد کا طوطی بولتا تھا۔ ساغر نے ایک سال اس کے لیے کام کیا۔ اس کے بعد سہراب مودی کے ساتھ کام کیا۔ اس کے ساتھ مرزا غالب اور جھانسی کی رانی وغیرہ فلموں کی تیاری میں انہوں نے کام کیا۔ فضلی برادرز کے ساتھ بھی ساغر نے کام کیا۔ ان کی فلم دلی کا ایک یادگار مشاعرہ کی تیاری میں کام کیا۔ اس دور میں ساغر نظامی نے مختلف اداروں کی فلموں میں وسیع پیمانے پر کام کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر و نغمہ نگار ریاض الرحمان ساغر کا یومِ پیدائش
——
آزادی کے بعد کے حالات
——
ہندوستان کی تقسیم کے بعد ساغر نظامی بھارت میں ہی رہائش پزیر رہے۔ ملک کے نظم و نسق کی باگ دوڑ کانگریس نے سنبھال لی تھی۔ بمبئی میں نیوے ڈے پر ساغر کی ملاقات جوہر لعل نہرو سے ہوئی تھی۔ پنڈت جی کے ایما پر ساغر نظامی نے 1954ء میں دہلی چلے گئے۔ دہلی میں ساغر کو آل انڈیا ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ کی ملازمت مل گئی۔ اس میں ساغر بائیس سال تک ملازمت کرتے رہے۔ اس میں ساغر نظامی کو بتدریج ترقی بھی ملتی رہی۔ 1962ء میں پنج لسانی وفد میں اردو کے نمائندے کی حثیت سے روس بھی گئے تھے۔ 1969ء میں حکومت کی طرف سے ساغر پولینڈ کے قومی شاعر آدم متسکی وچ کی صد سالہ برسی کی تقریب میں شریک ہوئے۔ 1970ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے تھے لیکن دو مرتبہ ملازمت میں توسیع ہوئی جس کی وجہ سے 1976ء میں مکمل طور ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد ساغر کو جنگ آزادی کی منظوم تاریخ لکھنے کے لیے اقامتی شاعر کا خاص عہدہ دیا گیا جس میں سرکاری مکان اور دو ہزار روپے مشاعرہ بھی شامل تھا۔ اس سلسلے میں مشعل آزادی کی جلد اول 1980ء میں شائع ہوئی۔ دوسرا حصہ بھی ساغر نے مکمل کر لیا تھا لیکن اشاعت سے پہلے ساغر کو موت کا بلاوا آ گیا۔
——
وفات
——
ساغر نظامی کی وفات کی وجہ ہڈیوں کا کینسر تھا۔ ساغر کی وفات بروز سوموار 27 فروری 1984ء کو صبح نو بجے ہوئی۔ ان کی نماز جنازہ 28 فروری کو پڑھی گئی۔ ان کی تدفین سلطان جی میں خاندان لوہارو کی ہئرواڑ میں کی گئی۔ نواب الہی بخش خان اور مرزا غالب کا مزار بھی اسی احاطے میں موجود ہے۔
——
اعزازات
——
ساغر نظامی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
حکومت ہند کی جانب سے 1969ء میں پدم بھوشن ایوارڈ عطا کیا گیا۔
اتر پریش اکیڈمی نے 1979ء میں اپنے اعلی ایوارڈ سے نوازا۔
بزم ساز و ادب دہلی نے 1980ء میں ہمدرد ایوارڈ سے نوازا۔
میر اکیڈمی لکھنؤ کی طرف سے 1980ء میں امتیاز میر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے 1981ء میں غالب مودی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اردو اکیڈمی نے 1984 میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا۔
——
تصانیف
——
ساغر نظامی کی تصانیف کی تعداد کثیر ہیں جن میں چند نظم اور نثر کے نام درج ذیل ہیں۔
نظم
1926ء میں حافظ شیرازی کے کچھ فارسی غزلوں کا اردو ترجمہ کیا جو لاہور کے مشہور ناشر فیروز اینڈ سنز نے شائع کیے۔
شباہیات (رباعیات کا مجموعہ) 1935ء میں پیمانہ بک ایجنسی آگرہ سےشائع ہوا۔
صبوحی جو غزلوں کا مجموعہ تھا 1992ء میں میرٹھ سے شائع ہوا۔
بادہ مشرق 1935ء میں ساغر پریس سے شائع ہوا۔
رنگ محل کی اشاعت 1943ء میں اقبال اکیڈمی حیدرآباد کی جانب سے عمل میں آئی۔
موج و محل کی اشاعت 1948ء میں تاج کمپنی کراچی کی جانب سے عمل میں آئی۔
شنکتلا کی اشاعت 1960 میں عمل میں آئی۔
انار کلی 1962ء میں شائع ہوئی۔
نہرو نامہ 1967ء میں شائع ہوئی۔
مشعل آزادی جلد اول کی اشاعت 1980 میں ہوئی۔
نثر
تہذیب کی سرگزشت (طویل افسانہ) کی اشاعت 1917ء میں ہوئی۔
سمندر کی دیوی جو ایک طویل افسانہ تھا 1927ء میں شائع ہوا۔
مشائح مارہرہ
کہکشاں کی اشاعت 1934ء میں ہوئی۔
——
اولاد
——
ساغر نظامی (صمد یار خان) نے اپنے پیچھے چار بچے چھوڑے۔
اسکندر اقبال یار خان
بابر اقبال یار خان
اکبر اقبال یار خان
شہناز ساغر
——
یہ بھی پڑھیں : اے ہستی پاکِ کون و مکاں تو روحِ روانِ ہستی ہے
——
منتخب کلام
——
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
——
سجدے مری جبیں کے نہیں اس قدر حقیر
کچھ تو سمجھ رہا ہوں ترے آستاں کو میں
——
آؤ اک سجدہ کروں عالم بد سمتی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
——
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
بے خودیٔ دل کا کیا کہنا سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں
ہستی سے مانوس بھی ہوں ہستی سے بیگانہ بھی
حسن نے تیرے دنیا میں کیسی آگ لگا دی ہے
برق بھی شعلہ برپا ہے رقص میں ہے پروانہ بھی
وسعت وحشت تنگ ہوئی بگڑا گھر دیوانوں کا
نجد کے اک سودائی نے لوٹ لیا ویرانہ بھی
آج محبت رسوا ہے ہاتھوں سے ہوشیاروں کے
عشق کی پہلی دنیا میں تھا کوئی دیوانہ بھی
دل کی دنیا ہلتی ہے روکو اپنی نظروں کو
کافر لوٹے لیتی ہیں آج تجلی خانہ بھی
گردش مست نگاہوں کی آخر وجد انگیز ہوئی
چکر میں ساغرؔ بھی ہے دور میں ہے پیمانہ بھی
——
حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے
تم نے بنا دیا ہے محبت میں کیا مجھے
ہر منزل حیات سے گم کر گیا مجھے
مڑ مڑ کے راہ میں وہ ترا دیکھنا مجھے
کیف خودی نے موج کو کشتی بنا دیا
ہوش خدا ہے اب نہ غم ناخدا مجھے
ساقی بنے ہوئے ہیں وہ ساغر شب وصال
اس وقت کوئی مری قسم دیکھ جا مجھے
——
ہم آنکھوں سے بھی عرض تمنا نہیں کرتے
مبہم سا اشارہ بھی گوارا نہیں کرتے
حاصل ہے جنہیں دولت صد آبلہ پائی
وہ شکوۂ بے رنگئ صحرا نہیں کرتے
صد شکر کہ دل میں ابھی اک قطرۂ خوں ہے
ہم شکوۂ بے رنگئ دنیا نہیں کرتے
مقصود عبادت ہے فقط دید نہیں ہے
ہم پوجتے ہیں آپ کو دیکھا نہیں کرتے
کافی ہے ترا نقش قدم چاہے جہاں ہو
ہم پیروئ دیر و کلیسا نہیں کرتے
سجدہ بھی ہے منجملۂ اسباب نمائش
جو خود سے گزر جاتے ہیں سجدا نہیں کرتے
جن کو ہے تری ذات سے یک گونہ تعلق
وہ تیرے تغافل کی بھی پروا نہیں کرتے
یہ لمحۂ حاضر تو ہے کونین کا حاصل
ہم حال کو نذر غم فردا نہیں کرتے
——
یہ بھی پڑھیں : بیاں ہے لبوں پر شہِ انس و جاں کا
——
دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے
مے میں کچھ اور ملاؤ کہ کڑی رات کٹے
آنسوؤں سے یہ کڑی رات نہیں کٹ سکتی
آج مے خانہ لنڈھاؤ کہ کڑی رات کٹے
نغمے بازار میں مہنگے ہیں تو کیا غم یارو
نوحے کو نغمہ بناؤ کہ کڑی رات کٹے
زیست اور موت اساطیر کہن ہیں یارو
نیا افسانہ سناؤ کہ کڑی رات کٹے
کوئی مشہود ہے اب اور نہ کوئی شاہد
اور اگر ہے تو دکھاؤ کہ کڑی رات کٹے
یہ بھی ایمان ہی کا دوسرا رخ ہے لوگو
کفر کو دین بناؤ کہ کڑی رات کٹے
یہ اندھیرا یہ سمندر یہ تلاطم آؤ
آؤ اور مجھ میں سماؤ کہ کڑی رات کٹے
——
پنگھٹ کی رانی
آئی وہ پنگھٹ کی دیوی، وہ پنگھٹ کی رانی
دنیا ہے متوالی جس کی اور فطرت دیوانی
ماتھے پر سیندوری ٹیکا رنگین و نورانی
سورج ہے آکاش میں جس کی ضو سے پانی پانی
چھم چھم اس کے بچھوے بولیں جیسے گائے پانی
آئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
کانوں میں بیلے کے جھمکے آنکھیں مے کے کٹورے
گورے رخ پر تل ہیں یا ہیں پھاگن کے دو بھونرے
کومل کومل اس کی کلائی جیسے کمل کے ڈنٹھل
نور سحر مستی میں اٹھائے جس کا بھیگا آنچل
فطرت کے مے خانے کی وہ چلتی پھرتی بوتل
آئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
رگ رگ جس کی ہے اک باجا اور نس نس زنجیر
کرشن مراری کی بنسی ہے یا ارجن کا تیر
سر سے پا تک شوخی کی وہ اک رنگیں تصویر
پنگھٹ بیکل جس کی خاطر چنچل جمنا نیر
جس کا رستہ ٹک ٹک دیکھے سورج سا رہ گیر
آئی پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
سر پر اک پیتل کی گاگر زہرہ کو شرمائے
شوق پا بوسی میں جس سے پانی چھلکا جائے
پریم کا ساگر بوندیں بن کر جھوما امڈا آئے
سر سے برسے اور سینے کے درپن کو چمکائے
اس درپن کو جس سے جوانی جھانکے اور شرمائے
آئی پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
——
اے صبح وطن
اے صبح وطن اے صبح وطن
اے روح بہار اے جان چمن
اے مطرب یا اے ساقئ من
اے صبح وطن اے صبح وطن
لے جوش جنوں کی ضربوں نے زنجیر غلامی توڑ ہی دی
جمہور کے سنگیں پنجے نے شاہی کی کلائی موڑ ہی دی
تاریخ کے خونیں ہاتھوں سے چھینا ہے ترا سیمیں دامن
اے صبح وطن اے صبح وطن
پھر لوٹ کے آیا صدیوں میں اقبال و طرب کا سیارہ
کرنوں میں افق پر پھر چمکا پستی کے اندھیروں کا مارا
حیراں حیراں نازاں نازاں خنداں خنداں روشن روشن
اے صبح وطن اے صبح وطن
دھرتی کے تبسم سے چمکے آفاق ابد کے سیارے
ظلمت کے ترنم سے پھوٹے نور ابدیت کے دھارے
ذروں کو تغیر نے بخشا اک معجزۂ خورشید شکن
اے صبح وطن اے صبح وطن
سوئے ہوئے ذرے جاگ اٹھے انوار سحر بیدار ہوئے
احساس زمیں بیدار ہوا افکار بشر بیدار ہوئے
بستر سے خذف ریزے اٹھے اور لعل و گہر بیدار ہوئے
آنکھوں کو ملا گلزاروں نے شاخوں پر ثمر بیدار ہوئے
نینوں سے مستی برساتی لو جاگ اٹھی ہستی کی دولہن
اے صبح وطن اے صبح وطن
بنجر دھرتی کی نس نس میں پودوں کا تخیل لہرایا
اجڑے کھیتوں پر سایہ ہے گیہوں کے سنہری خوشوں کا
ہر برگ فسردہ نے کھینچا دوشیزہ بہاروں کا دامن
اے صبح وطن اے صبح وطن
سنسان بیابانوں میں ہے اک جذبۂ گلشن آرائی
ویراں کھنڈروں میں لیتا ہے محلوں کا تصور انگڑائی
سیپی کی رو پہلی جھولی میں ہیں آج ہزاروں در عدن
اے صبح وطن اے صبح وطن
ذرات میں کروٹ لینے لگے سو لالہ رخسان و ماہ جبیں
سنگین چٹانوں میں جاگے اصنام کے خد و خال حسیں
ہے دیر کہ کعبہ کیا جانے ہے کون سا عالم زیر زمیں
مسجود نہیں ہے کوئی بھی سجدے میں مگر جھکتی ہے جبیں
نقاش ہے تیری پرچھائیں آذر ہے ترے سورج کی کرن
اے صبح وطن اے صبح وطن
آہن کی صلابت میں ابھرا معصوم تصور نرمی کا
پھولوں کی لطافت میں امڈا آہن بن جانے کا جذبہ
قرنوں کی خموشی کو حسرت ہے سیل بیاں بن جانے کا
صدیوں کی اداسی کو ضد ہے اک نطق جواں بن جانے کا
ہر سانس کے اندر غلطاں ہے تغییر کے سینے کی دھڑکن
اے صبح وطن اے صبح وطن
پربت پربت ساگر ساگر پرچم اپنا لہراتا ہے
محلوں پہ ملوں پہ قلعوں پر عظمت کے ترانے گاتا ہے
گل بار ردائے آزادی سرشار جوانی کا پرچم
یہ امن کے نغموں کا مطرب خاموش بغاوت کا یہ علم
تہذیب کا یہ زریں آنچل تعمیر کا یہ رنگیں دامن
اے صبح وطن اے صبح وطن
قندیل سحر نور منزل خورشید سحر شمع ساحل
یہ خون شہیداں کا مخزن یہ درد رفیقاں کا حاصل
یہ امن کا لہراتا گیسو یہ صدق و محبت کا درپن
اے صبح وطن اے صبح وطن
اب کھیتوں میں گندم ہی نہیں سونا بھی اگے گا اے ساقی
بخشے گا تغیر بھوکوں کو اک روز مزاج زراتی
اب ہیرے موتی اگلیں گے یہ باغ و صحرا کوہ و دمن
اے صبح وطن اے صبح وطن
گاؤں کو سنائیں گے مژدہ احصار حسیں بن جانے کا
ذروں کو سندیسہ دیں گے تڑپ کر مہر جبیں بن جانے کا
اور تیرے افق کی لالی سے ہوتے ہیں ستارے بھی روشن
اے صبح وطن اے صبح وطن
اب خاک قدم مجبوروں کی برسائے گی دنیا پر سونا
اب اطلس کی قسمت ہوگی پیراہن محنت کش ہونا
پڑتے ہی نگاہ صاعقۂ زن جل اٹھے گا ہر نظم کہن
اے صبح وطن اے صبح وطن
کھیتوں کی زمیں اونچی ہو کر فردوس سے رشتہ جوڑے گی
اب ہل کی انی سرمستی میں آکاش کے تارے توڑے گی
وہ دن بھی اب کچھ دور نہیں جب سیارے ہوں گے آنگن
اے صبح وطن اے صبح وطن
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات