حرفِ رسوا ہوں کہ تشہیر ہوں ، جانے کیا ہوں
تیری تذلیل ہوں ، توقیر ہوں ، جانے کیا ہوں تو ہے موجود کہ امکان ہے جانے کیا ہے میں حقیقت ہوں کہ تصویر ہوں ، جانے کیا ہوں یہ تخیل ہے کہ منظر ہے نہ جانے کیا ہے میں کوئی خواب ہوں تعبیر ہوں ، جانے کیا ہوں حرف آفاق سے اترے ہیں صحیفہ […]