اردوئے معلیٰ

Search

ساقی کا اگر مجھ پر فیضانِ نظر ہوتا

بادہ بھی دگر ہوتا، نشّہ بھی دگر ہوتا

 

منزل سے بھٹکنے کا تجھ کو نہ خطر ہوتا

نقشِ کفِ پا ان کا گر پیشِ نظر ہوتا

 

اس عالمِ گزراں کا عالم ہی دگر ہوتا

کہتے ہیں بشر جس کو، اے کاش بشر ہوتا

 

تو اپنے گناہوں پر نادم ہی نہیں ورنہ

یا دیدۂ تر ہوتا، یا دامنِ تر ہوتا

 

دم گھٹنے لگا میرا، اے میرے خدا اب تو

یہ تیرہ شبی جاتی، ہنگامِ سحر ہوتا

 

غم کی زدِ پیہم سے بچتا میں نظرؔ کیسے

دل یہ نہ مرا بڑھ کر گر سینہ سپر ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ