اردوئے معلیٰ

یہ کتاب پاک و ہند کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی آراء سے مزّین ہے۔
سید فخرالدین بَلّے مایہءناز ادیب ، شاعر ، دانشور، اسکالر ، محقق ، کہنہ مشق صحافی ، ماہرِ تعلقات عامہ ، فنون و ثقافت کےدلدادہ ، امیر خسرو کے سات سو سال بعد نئے قول ترانے کے خالق اور اعلی انسانی اقدار و ورایات کی امین ایک تہذیبی شخصیت کا خوبصورت نام ہے ۔ جمیل الدین عالی نے اپنے کالم نقارخانے میں لکھا کہ وہ محض ایک شخصیت نہیں، ایک ادارہ ،ایک آدرش ،ایک انجمن بلکہ اپنی ذات میں ایک جہان تھے۔تمام زندگی محبتیں بانٹیں ، محبتیں سمیٹیں اور محبتیں لٹائیں ۔اشفاق احمد،پیر حسام الدین راشدی، ڈاکٹروزیرآغا،اور ممتازمستشرقہ این میری شمل نے سَیّد فخرالدین بَلّےّ کوتصوف پراہم اتھارٹی قراردیا۔ علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ نے بڑا تفصیلی سوانحی خاکہ لکھا اور بتایا کہ سَیّد فخرالدین بَلّے نے اردو ، انگریزی ، فارسی اور ہندی میں جو تالیفات ترتیب دیں ، ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے۔ ان مطبوعات میں کتابیں ، کتابچے، سووینئیراور بروشرز شامل ہیں ۔ یہ تمام مختلف موضوعات پر ہیں ، جن سے سَیّد فخرالدین بَلّے کی وسعت علمی اور حب الوطنی کا پتا چلتا ہے
——
سَیّد فخرالدین بَلّے ، بَلّے بَلّے۔ ایک بھرپور کتاب
——
کتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے کلک کریں ۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات