اردوئے معلیٰ

آئینہِ خیال شکستہ ضرور ہے

آئینہِ خیال شکستہ ضرور ہے

لیکن ترے نقوش سلامت ہیں آج بھی

 

مانا کہ کوئی نام مکمل نہیں رہا

کچھ حرف لوحِ دل پہ عبارت ہیں آج بھی

 

ناپید ہو چکے ہیں کنول سرخ رنگ کے

لیکن تصورات کی زینت ہیں آج بھی

 

ہے میری شاعری پہ وہ قربان آج بھی

میرے سبھی گمان حقیقت ہیں آج بھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ