آئی صبا ہے کاکلِ گل کو سنوار کے

آئی صبا ہے کاکلِ گل کو سنوار کے

پھولوں کے رُخ کو آ گئی شبنم نکھار کے

 

اِس کار گاہِ زیست کا ہے منتظم وہی

دیکھو بغور کام یہ پروردگار کے

 

اُس کے کرم سے وقت گزرتا ہے اِس طرح

عادی ہوئے ہیں گردشِ لیل و نہار کے

 

سجدے میں سر جھکائے ہیں نجم و شجر، حجر

نغمے اُسی کی حمد میں ہیں آبشار کے

 

چاہے تو ایک اشکِ ندامت پہ بخش دے

کیا سمجھے کوئی راز اُس آمرزگار کے

 

پائے گا بالیقیں اُسے شہ رگ سے بھی قریب

دیکھے تو کوئی مرکزِ دل سے پکار کے

 

اے پھول ! خشک پتّے وہاں سے نکل گئے

جھونکے چمن میں آئے جو بادِ بہار کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تو ہے مشکل کشا، اے خدا، اے خدا
تو ہست تو ہی بود، تیری ذات لاشریک ​
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا
سرورِ قلب و جاں، اللہ ہی اللہ
خداوندا! ہمیں صدق و صفا دے
خدا کی عظمتوں کے ہیں مظاہر سمندر، کوہ و بن، صحرا بیاباں
خُدا ہی خالقِ کون و مکاں ہے
خدا کا نُور برسے ہر زماں میں ہر جہاں میں
نہ مال و زر، نہ تاج و تخت مانگو
تو اپنی رحمتوں کا ابر برسا، خداوندا تو ہم پہ رحم فرما