اردوئے معلیٰ

Search

آسرے توڑتے ہیں، کتنے بھرم توڑتے ہیں

حادثے دل پہ مرے دُہرا ستم توڑتے ہیں

 

آستینوں میں خداوند چھپا کر اتنے

لوگ کن ہاتھوں سے پتھر کے صنم توڑتے ہیں

 

اُٹھ گئی رسمِ صدا شہر طلب سے کب کی

اب تو کشکولِ ہوس بابِ کرم توڑتے ہیں

 

جھوٹی تعبیر کے آرام کدے سے تو نکل

خواب کتنے تری دہلیز پہ دم توڑتے ہیں

 

ہم نے اُس شہر میں بھی پاسِ وفا رکھا ہے

قیس و فرہاد جہاں روز قسم توڑتے ہیں

 

پڑھنے والے پڑھا کرتے ہیں ترے چہرے کو

لکھنے والے ترے قدموں میں قلم توڑتے ہیں

 

تیرا اعجاز کہ ہم تیری اسیری کے لئے

دامِ صد حلقۂ دینار و درم توڑتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ