آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا

آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا

آئے نور الہدٰی مرحبا مرحبا

 

ظلمتیں چھٹ گئیں ہو گئی روشنی

ہر طرف چھا گئی آگہی آگہی

 

صحنِ گلشن میں ہر ایک سُو چل پڑی

ایک تازہ ہوا مرحبا مرحبا

 

آپ کے دم سے دنیا میں ہیں رحمتیں

آپ ہی کے سبب ہیں سبھی برکتیں

 

دلفریب و حسیں رنگ کی ساعتیں

کیا ملا راہنما مرحبا مرحبا

 

آپ خیرالبشر رحمت العالمیں

حسنِ اخلاق تھا آفریں آفریں

 

ہر طرف سے صدائیں یہ آنے لگیں

سیرتِ مجتبیٰ مرحبا مرحبا

 

صاف کہتا ہے یہ خالق ِ دو جہاں

آپ ہی کے لئے ہیں زمیں آسماں

 

ورنہ دنیا کی مجھ کو طلب تھی کہاں

احمدِ مجتبٰی مرحبا مرحبا

 

جائیں گے ہم بھی زاھد کبھی نہ کبھی

رحمتیں ہیں برستی جہاں ہر گھڑی

 

وہ مدینے کی روشن سُہانی گلی

شہرِ خیرالوری مرحبا مرحبا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات