اردوئے معلیٰ

آنکھوں میں اب یقین کی جنت نہیں رہی

لہجے میں اعتماد کی شدت نہیں رہی

 

آشوبِ دہر ایسا کہ دنیا تو برطرف

خود پر بھی اعتبار کی ہمت نہیں رہی

 

ق

 

کس کس گلی نہ لے گئی آشفتگی ہمیں

کس کس نگر میں درد کی شہرت نہیں رہی

 

ویران اب بھی رہتا ہے عالم خیال کا

تنہائیوں میں پہلی سی وحشت نہیں رہی

 

ہر شام اب بھی اٹھتی ہے سینے میں ہُوک سی

بیکار گھومنے کی وہ عادت نہیں رہی

 

ہر شام اب بھی جمتی ہیں لوگوں کی بیٹھکیں

یارانِ خوش خیال کی صحبت نہیں رہی

 

آنے لگے ہیں راس ہمیں ہجر کے عذاب

نظروں میں اب وصال کی جنت نہیں رہی

 

ہم ہو گئے ہیں خود کسی آنگن کا سایہ اب

سائے میں بیٹھنے کی وہ فرصت نہیں رہی

 

رونق گلی کی لے گیا آسیبِ روزگار

وہ مطمئن مزاج سی خلقت نہیں رہی

 

ڈرتے تھے کس طرح سے کریں گے وضاحتیں

وہ مل کے رو دیئے تو یہ دِقت نہیں رہی

 

کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیرؔ اب

خود کو تلاش کرنے کی مہلت نہیں رہی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات