اردوئے معلیٰ

Search

 

آنکھوں میں نور دل میں بصیرت ہے آپ سے

میں خود تو کچھ نہیں مری قیمت ہے آپ سے

 

ہے آپ ہی کے دم سے ایمان کی زمیں

اور دین کی یہ چھت بھی سلامت آپ سے

 

ہے آپ کا کرم یہ مری خواہش نمو

گو خاک ہوں مگر مجھے نسبت ہے آپ سے

 

یہ آپ ہی کا فیض دلوں کا گداز ہے

ان برف کی تہوں میں حرارت ہے آپ سے

 

جب آپ نے دکھائیں تو راہیں دکھائی دیں

یعنی دل و نگاہ کی وسعت ہے آپ سے

 

اس مہر و مہ سے تیرہ شبی کم نہیں ہوئی

دنیا کو روشنی کی ضرورت ہے آپ سے

 

تسخیر کائنات مرا منتہا نہیں

مجھ کو تو صرف آپ کی حاجت ہے آپ سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ