آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر

آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر

اے دلِ مضطر مدینے کا سفر تدبیر کر

 

نعت رنگوں کی خبر ہے اور خوشبو کا سفر

اِذن ہو جائے تو پھر ہر حرف کو تنویر کر

 

صبحِ نو خود پھوٹ آئے گی سخن کی اوٹ سے

شعر کے شب زاد میں مدحت کی اک تفجیر کر

 

آبگینہ ہے یہاں دھڑکن پہ بھی پہرے بٹھا

یہ مدینہ ہے یہاں سانسوں کو بھی زنجیر کر

 

ایک ہی ترتیب ہے یہ آنکھ کی بہتی لکیر

ایک ہی تصویر ہے اس دل کو دیکھیں چیر کر

 

آ کبھی خوابِ تسلی میرے دل پر ہاتھ رکھ

آ کبھی حسنِ مکمل مجھ کو بھی نخچیر کر

 

میرے بس میں تو نہیں ہے تجھ کو حرفوں کا خراج

میں تصور باندھتا ہوں تو اسے تصویر کر

 

کیا خبر مقصودؔ کب آ جائے وہ ناقہ سوار

دل کے یثرب میں مدینہ سا نگر تعمیر کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیارِ احمد مختار چل کے دیکھتے ہیں
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہے
در پہ آئے ہیں اِلتجا کے لیے
اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں
درِ سرکارؐ پر گریاں ہے کوئی آبدیدہ ہے
السّلام اے سیّد و سردارِ ما
آپ ہیں مصطفےٰ خاتم الانبیاء
وَالفَجر ترا چہرہ، والیل ترے گیسو

اشتہارات