اردوئے معلیٰ

آوازہِ امید نہ اب شورِ ہوس ہے

آوازہِ امید نہ اب شورِ ہوس ہے

دھڑکن میں جو گونجی ہے وہ آوازِ جرس ہے

 

مٹی میں ملائے نہیں جاتے ہیں ستارے

ائے حسرتِ تکلیف ، مرے ظرف کی بس ہے

 

نایاب اڑانوں کی تصاویر ہیں آنکھیں

یہ پردہِ سیمیں ہے کہ دیوارِ قفس ہے

 

ہر چند گریبان رہا چاک ہمیشہ

وحشت ہی کوئی اور مگر اب کے برس ہے

 

نکلا نہ زمانے سے کوئی چاند، نہ دم ہی

اٹکا ہوا آنکھوں میں کہیں ایک نفس ہے

 

الجھا ہوا تعبیر سے ہے خواب کا ریشم

اک حلقہِ آتش میں خیالات کا خس ہے

 

صحرائے غمِ ہجر لہو چوس چکا ہے

پر اب بھی لبِ زرد پہ اک یاد کا رس ہے

 

رہتی ہی نہیں ربط میں گفتار کی کڑیاں

اس درجہِ وحشت پہ کہاں ضبط کا بس ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ