اردوئے معلیٰ

آپ سے عشق پیارے ربّ کا ہے

آپ سے عشق پیارے ربّ کا ہے

آپ سے عشق پیار سب کا ہے

 

ربِّ اکبر درُود پڑھتا ہے

یہ وظیفہ نہ جانے کب کا ہے

 

مانگتا ہوں میں اُن سے پیار اُن کا

میرا انداز یہ طلب کا ہے

 

چاند سورج ہیں تابعِ فرماں

سلسلہ جن سے روز و شب کا ہے

 

اُن کے ہر نقشِ پا پہ سر رکھنا

عاشقی کا طریق ڈھب کا ہے

 

جب سے سرکار نے قدم رکھا

دل مرا بے قرار تب کا ہے

 

سر جھکاؤ ظفرؔ! ادب سے یہاں

آستاں یہ حبیبِ ربِّ کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ