آپؐ سے عشق پیارے ربّ کا ہے

آپؐ سے عشق پیارے ربّ کا ہے

آپؐ سے عشق پیار سب کا ہے

 

ربِّ اکبر درُود پڑھتا ہے

یہ وظیفہ نہ جانے کب کا ہے

 

مانگتا ہوں میں اُنؐ سے پیار اُنؐ کا

میرا انداز یہ طلب کا ہے

 

چاند سورج ہیں تابعِ فرماں

سلسلہ جن سے روز و شب کا ہے

 

اُنؐ کے ہر نقشِ پا پہ سر رکھنا

عاشقی کا طریق ڈھب کا ہے

 

جب سے سرکارؐ نے قدم رکھا

دل مرا بے قرار تب کا ہے

 

سر جھکاؤ ظفرؔ! ادب سے یہاں

آستاں یہ حبیبِؐ ربِّ کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ان کے نام پاک پر مرجائیے
وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے
آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے
چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں
در جاں چو کر منزل، جانانِ ما محمد
خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا
اُنہی کا نور پھیلا ہے جدھر دیکھو جہاں دیکھو