اردوئے معلیٰ

ائے ریگِ ناشناس ، ہمیں ڈھانپ لے کہ ہم

اک بدحواس عمر کی عجلت میں کھو گئے

 

آنکھوں کی دلدلوں میں عجب معجزہ ہوا

کتنے ہی نقشِ پا تھے کہ محفوظ ہو گئے

 

کب تک گماں کی راہ گزر پہ قیام ہو

جو باعثِ قیام تھے وہ لوگ تو گئے

 

آخر فنا کیا ہے کمالات نے ہمیں

ہم وسعتِ خیال میں معدوم ہو گئے

 

لنگر اٹھا لیے ہیں کہ امید اٹھ گئی

ہم بادبان اوڑھ کے عرشے پہ سو گئے

 

اک جی ہے شاعری کا جو ہلکا نہیں ہوا

نوحہ گراں ہزار یہاں خون رو گئے

 

روئیدگی میں نیند کو رستہ نہیں ملا

تم چشمِ خواب ساز میں اشعار بو گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات