ائے چشمِ ناشناس ، ترا گلہ ، کہ تو

ائے چشمِ ناشناس ، ترا گلہ ، کہ تو

واقف کہاں رہی تھی جمالِ جنون سے

 

ائے عہدِ ناسپاس ، تجھے کیا کہیں کہ ہم

خود بھی دھواں دھواں تھے کمالِ جنون سے

 

ائے وائے انحطاطِ تمنا ، یہ حال ہے

ہوتے ہیں شرمسار ، سوالِ جنون سے

 

ہم کہ سوارِ ناقہِ وحشت ہوئے ، سو ہم

رستوں میں کھو گئے ہیں زوالِ جنون سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ