اب بار گناہوں کا اٹھایا نہیں جاتا

 

اب بار گناہوں کا اٹھایا نہیں جاتا

لللہ کرم ، دل کا تڑپنا نہیں جاتا

 

سرکار کےدر سے جو گزرتا نہیں جاتا

اللہ کے دربار وہ رستہ نہیں جاتا

 

دربارِ محمد پہ بھرے جاتے ہیں دامن

اس در سے کبھی کوئی بھی ٹالا نہیں جاتا

 

کر ٹھیک عقیدہ جو تجھے چاہیے نعمت

کچھ قاسمِ نعمت سے چھپایا نہیں جاتا

 

کس کام کا وہ شعر ، غزل ، نظم ، رباعی

سرکار کی مدحت میں جو لکھّا نہیں جاتا

 

پھر آنے کو سرکار نہ گر بھیجتے خود ہی

واللہ وہاں سے کبھی لوٹا نہیں جاتا

 

کس جا پہ مدینے میں قدم اُن کے پڑے ہوں

رکھتا ہوں قدم پھونک کے ، رکھّا نہیں جاتا

 

میں نے بھی نہیں چھوڑنا سرکار کا دامن

جب تک کہ مجھے حشر میں بخشا نہیں جاتا

 

دانش ! یہ ہے اللہ کے محبوب کا دربار

اس در سے کبھی کوئی اٹھایا نہیں جاتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

درِ سرکارؐ پر گریاں ہے کوئی آبدیدہ ہے
السّلام اے سیّد و سردارِ ما
آپ ہیں مصطفےٰ خاتم الانبیاء
وَالفَجر ترا چہرہ، والیل ترے گیسو
اوج کے نقشِ چمن زار سے جا ملتا ہے
مدینہ شہرِ دلنشیں ہے نُور بار، مُشکبو
کہاں سے لاؤں وہ حرف و بیاں نمی دانم
نعت سے دامنِ طلب بھر دے
ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا
رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی

اشتہارات