اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو

اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو

سر چڑھ کے بولتا تھا اُس کے بدن کا جادُو

 

قامت تھی یا قیامت، شُعلہ تھا یا سراپا

پھیکا تھا اُس کے آگے سرووسمن کا جادُو

 

آنکھوں میں تیرتے تھے ڈورے سے رتجگوں کے

انگڑائی میں گُھلا تھا میٹھی تھکن کا جادُو

 

کلیوں کے جیسے کومل تھے ہاتھ پاؤں اُس کے

غُنچوں کو چھیڑتا تھا اُس کے دہن کا جادُو

 

وہ سر سے پاؤں تک تھا مر مر کا بُت مکمل

بڑھتا تھا اُس کو چُھو کر ہر پیرہن کا جادُو

 

کاجل بِنا تھی آنکھیں، لالی بغیر لب تھے

یہ سادگی کا افسوں، وہ بھولپن کا جادُو

 

پہلے رہا تھا کُچھ دن انکار اُن لبوں پر

پھر چل گیا تھا میرے دیوانہ پن کا جادُو

 

گر سچ کہوں تو فارس وہ شخص عام سا تھا

چمکا گیا تھا اُس کو میرے سُخن کا جادُو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
کوئی صداء ، سوال ، طلب ، کچھ نہیں رہا
گماں امکان کی تاویل ہونے پر نہیں آتا