اب شبِ غم اگر نہیں نہ سہی

اب شبِ غم اگر نہیں نہ سہی

دامنِ برگ تر نہیں نہ سہی

 

زندہ دارانِ شب کو میری طرح

انتظارِ سحر نہیں نہ سہی

 

دشت پیما کے آس پاس اگر

کوئی دیوار و در نہیں نہ سہی

 

عام ہے جستجوئے جہلِ خرد

شہر میں دیدہ ور نہیں نہ سہی

 

ہر نفس ایک تازیانہ ہے

آہ میں کچھ اثر نہیں نہ سہی

 

موت ہے مستقل تعاقب میں

زندگی خود نگر نہیں نہ سہی

 

سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں

سر چھپانے کو گھر نہیں نہ سہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

اشتہارات