اتنا بڑھا بشر، کہ ستارے ہیں گردِ راہ

اتنا بڑھا بشر، کہ ستارے ہیں گردِ راہ

اتنا گھٹا، کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا

ہنگامہ ہائے کارگہِ روز و شب نہ پوچھ

اتنا ہجوم تھا ، کہ میں تنہا سا رہ گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مَیں کُڑھتا رھتا ھُوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس
خُدا کی عظمتوں کا ذکر کرنا
خدائے مہرباں کی ذاتِ باری
خدا کی حمد لکھنا، نعت کہنا
خدا سے دِل لگی جب تک نہ ہو گی
نہیں ہے دل رُبا کوئی خدا سا
خدا کا ذکر جس دل میں سمائے
مسلسل ہے وردِ زباں اللہ اللہ
خداوندا مرے دل کو سکوں دے
سماں فیضان کا، اللہ کی قدرت

اشتہارات